احتساب کے نام پر سانپ سونگھ جاتا ہے،فضل الرحمان  میں ہمت ہے تو اپنے سارے اثاثے  ریاست کے سامنے لا کر رکھیں،مزمل سہروردی

احتساب کے نام پر سانپ سونگھ جاتا ہے،فضل الرحمان  میں ہمت ہے تو اپنے سارے اثاثے  ریاست کے سامنے لا کر رکھیں،مزمل سہروردی

سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ مدارس میں کتے پالنے کا معاملہ وضاحت طلب ہے، کیونکہ کتا ناپاک جانور ہے، اس لیے متعلقہ مدرسے کی انتظامیہ کو بتانا چاہیے کہ وہاں کتے رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافت ایک مشکل اور خطرات سے بھرپور پیشہ ہے، صحافیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں، ایسے میں اختلافِ رائے کی بنیاد پر صحافیوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ افسوس ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ کسی کو ہماری رائے سے اختلاف ہوسکتا ہے، اختلاف ہر شخص کا حق ہے اور اسے برداشت بھی کرنا چاہیے، لیکن اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صحافیوں پر کتے چھوڑ دیے جائیں۔ ایسا رویہ نہ مذہبی اعتبار سے قابل قبول ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر اس کی کوئی گنجائش ہے۔

غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے

مزمل سہروردی نے کہا کہ مدارس سمیت جہاں کہیں بھی غیر قانونی افغان باشندے موجود ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، اگر مولانا فضل الرحمان کے مدارس میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے موجود ہیں تو ریاست کو قانون حرکت میں لانا چاہیے۔ مدارس بھی ریاست کے تابع ہیں اور انہیں ریاست کے تمام قوانین، اصول اور ضابطوں کی پابندی کرنا ہوگی،انہوں نے کہا کہ شریعت بھی ریاست کے خلاف بغاوت کی اجازت نہیں دیتی، اس لیے کسی بھی ادارے یا مدرسے کو ریاستی قوانین سے بالاتر نہیں سمجھا جاسکتا۔

فضل الرحمان خود کو احتساب کے لیے پیش کریں

مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ انہیں خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے اور اپنے تمام اثاثے اور متعلقہ تفصیلات ریاست کے سامنے رکھنی چاہئیں ان کے بقول ایک سیاست دان سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے اثاثوں اور مالی معاملات کی تفصیلات متعلقہ حکام کو فراہم کرے،انہوں نے کہا کہ ابھی معاملات کو حل کرنے کا موقع موجود ہے، اس لیے بہتر ہوگا کہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کی جائے۔

شہزاد اکبر کے ماضی پر بھی تنقید

سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر سے متعلق سوال پر مزمل سہروردی نے کہا کہ وہ اداروں میں بیٹھ کر پریس کانفرنسیں کیا کرتے تھے اور ان کے نزدیک شہزاد اکبر پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ کردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تحریک انصاف کو بھی شہزاد اکبر پر کوئی فخر نہیں ہوگا۔

مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ جس شخص کا ماضی ایسا ہو، اسے دوسروں کے بارے میں اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اسے خود بھی گفتگو کرتے ہوئے اپنے سابقہ کردار کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کو آئندہ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے سے متعلق شہزاد اکبر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسد قیصر شاید تحریک انصاف کے مقابلے میں انتخاب نہ لڑیں، اس لیے اس حوالے سے شہزاد اکبر کی بات درست ہوسکتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام اور تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے

خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی کام ہونے چاہئیں اور یہ اچھی بات ہے کہ گورنر تجاوزات کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوامی ضروریات اور بنیادی سہولتوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

سندھ میں ناقص ترقیاتی کاموں پر بھی سوال

سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا، جس میں ایک غیر معیاری سڑک دکھائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار اور ان پر خرچ ہونے والے وسائل کے حوالے سے سنجیدگی سے دلچسپی لینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی ویڈیو پنجاب کی ہوتی تو اب تک مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہوتا، لیکن سندھ میں سامنے آنے والے ایسے معاملات پر وہی شدت دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر صوبائی تفریق کے بغیر سوال اٹھنے چاہئیں۔

مسٹر پتلو کی گرفتاری اور واقعے کی ذمہ داری کا معاملہ

مسٹر پتلو سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ انہیں گرفتار ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ ویڈیو دیکھی ہے اور ان کے خیال میں جس تقریب میں یہ واقعہ پیش آیا، اس کے منتظمین اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی مدد کرنا مقصود ہو تو خاموشی سے اس کے گھر جا کر مدد کی جاسکتی ہے، لیکن اسٹیڈیم میں لوگوں کو جمع کرکے اس نوعیت کی سرگرمی کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی تقریب کے دوران پیش آنے والے واقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی ذمہ داری کا تعین قانون کے مطابق ہونا چاہیے،انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں انہیں مسٹر پتلو کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں، انہیں قانون کے سامنے سرنڈر کرنا چاہیے اور واقعے سے متعلق اپنی ذمہ داری کا سامنا کرنا چاہیے۔

editor

Related Articles