گیند امریکا کے کورٹ میں ہے، ایران نے 7 نکاتی تجویز کو سفارتکاری کی بنیاد قرار دے دیا

گیند امریکا کے کورٹ میں ہے، ایران نے 7 نکاتی تجویز کو سفارتکاری کی بنیاد قرار دے دیا

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی بنیاد ایرانی 7 نکاتی تجویز ہے، اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایرانی 7 نکاتی تجویز پر عمل درآمد کا امکان موجود ہے، اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات بالکل واضح اور منطقی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی بھی معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے مطالبات کی منظوری ضروری ہے،  ایران کو وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا کی جانب سے کسی نئی صورتحال کی توقع نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :جنگ غیرضروری، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، اوباما کی ٹرمپ پر سخت تنقید

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس عمل میں سہولت کاری کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔

عالمی فوجداری عدالت پر امریکی دباؤ 

اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام کے خلاف اپنے قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کرنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو امریکا کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران امریکا نے نہ صرف کوئی سفارتی اقدام پیش کرنے میں ناکامی دکھائی بلکہ سفارتی عمل کو فعال طور پر نقصان بھی پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ طویل ، امریکی سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کو آئینہ دکھا دیا

قبل ازیں مریکی صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی ،  ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ امریکا جلد معاملہ نمٹا دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں، لیکن ایک مرحلے پر ہمیں سخت کارروائی کرنا ہوگی۔

editor

Related Articles