خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی سمیت اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، جنید اکبر، اقبال آفریدی اور دیگر رہنماؤں سے متعلق لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کل پشاور ہائیکورٹ میں ہوگی۔
عدالت میں ان درخواستوں پر سماعت کے دوران پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا جائے گا کہ درخواستوں میں نامزد افراد اس وقت کہاں ہیں اور ان کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے۔
سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ کرے گا عدالت کی جانب سے پولیس اور دیگر متعلقہ فریقین کو پہلے ہی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کی ہدایت کی جاچکی ہے۔
درخواستوں کے مطابق متعلقہ افراد کی گمشدگی کو 24 روز گزر چکے ہیں، تاہم ان کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہ آنے پر عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔کل ہونے والی سماعت میں پہلی مرتبہ متعلقہ حکام عدالت کو بتائیں گے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے لاپتہ قرار دیے گئے افراد کہاں ہیں، آیا انہیں گرفتار کیا گیا ہے یا وہ قانون سے خود فرار ہیں۔
اگر متعلقہ افراد زیر حراست ہیں تو حکام کو ان کی حراست کی قانونی حیثیت اور اس سے متعلق تفصیلات بھی عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوں گی،پشاور ہائیکورٹ کی سماعت کے دوران یہ بھی واضح ہوسکے گا کہ متعلقہ حکام نے درخواستوں میں نامزد افراد کی تلاش، گرفتاری یا حراست سے متعلق کیا اقدامات کیے ہیں۔
کل ہونے والی سماعت کو اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ عدالت کے سامنے پہلی مرتبہ متعلقہ افراد کی موجودگی اور قانونی حیثیت سے متعلق حکام کا مؤقف پیش کیا جائے گا۔