خیبرپختونخوا میں متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی سے متعلق حکومتی ذمہ داریوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مشیر اطلاعات و ریلیف ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا باضابطہ چارج سنبھال لیا ہے۔
چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے عوامی ریلیف اور صوبے کی تعمیرِ نو کو اپنی اولین ترجیحات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں سے متاثرہ خاندانوں کو مشکلات سے نکالنا اور انہیں دوبارہ معمول کی زندگی فراہم کرنا بنیادی مقصد ہوگا۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے یہ اہم ذمہ داری سونپنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ ان کے مطابق ایک ترقی کرتا، مضبوط اور بہتر خیبرپختونخوا ان کا وژن ہے۔
بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات
مشیر اطلاعات و ریلیف نے موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی اور قدرتی آفات کو صوبے کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کسی بھی قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال کے دوران متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے گی۔ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنا کر امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کا عمل کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
صرف امداد نہیں، مستقل بحالی بھی ضروری
ثمر ہارون بلور کے مطابق متاثرہ عوام کو عارضی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تعمیرِ نو اور عوام کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ مشکل حالات میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت اور فوری ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی بنائی جائے گی۔
حکومتی کارکردگی کا اصل امتحان
محکمہ ریلیف کی ذمہ داری ایسے وقت میں سنبھالی گئی ہے جب خیبرپختونخوا کو دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایسے حالات میں محض ترجیحات کے اعلان کے بجائے امدادی نظام کی فعالیت، متاثرہ خاندانوں تک بروقت وسائل کی رسائی اور بحالی کے منصوبوں کی تکمیل بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ثمر ہارون بلور کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ اعلان کردہ ترجیحات کو عملی اقدامات میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور مستقل آبادکاری کی رفتار ہی محکمہ ریلیف کی کارکردگی کا تعین کرے گی۔