شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد 68 ارکانِ صوبائی اسمبلی نے اپنی ہی جماعت سے بغاوت کر دی ہے اور اب وہ پارلیمانی لیڈر اور قائدِ ایوان کا انتخاب بھی خود کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ ان ارکان کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی لیڈر اور قائدِ ایوان کے انتخاب کا فیصلہ بھی وہ خود کریں گے، مرکز کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان ارکان نے علی امین گنڈاپور کو نامزد کیا ہے۔
شیر افضل مروت کے بیان میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتِ حال اور پارٹی کے اندر ممکنہ اختلافات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کے دعوے کے مطابق ارکان اسمبلی قیادت کے انتخاب اور مرکز کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں اپنا کردار خود طے کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم 68 ارکان کی جانب سے باضابطہ طور پر پارٹی سے علیحدگی یا مذکورہ فیصلوں کی تصدیق کے لیے متعلقہ ارکان یا پارٹی قیادت کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔