ایران کے ساتھ ویتنام جیسی لمبی جنگ نہیں ہوگی، مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائی کی جائے گی،ٹرمپ

ایران کے ساتھ ویتنام جیسی لمبی جنگ نہیں ہوگی، مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائی کی جائے گی،ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ویتنام جنگ کی طرح طویل نہیں ہونے دینا چاہتے، ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو پاتا ہے یا نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ابھی تک ایران پر فیصلہ کن ضرب نہیں لگائی کیونکہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔   امریکا سفارتی حل کے امکان کو دیکھ رہا ہے، تاہم مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران میں کس فریق کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں ، ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے مناسب فریق کا تعین کرنا ضروری ہے تاکہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :نیتن یاہو ایران کے خلاف ایٹمی حملے کے لیے ٹرمپ پر شدید دباؤ ڈالے ہوئے ہیں، 7 نومبر کی تاریخ انتہائی اہم، امریکی صحافی کا دعویٰ

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے وہاں حکومت کی تبدیلی ضروری نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے، اس مقصد کے لیے لازمی نہیں کہ ایرانی حکومت تبدیل کی جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معاشی اور عسکری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت شدید بحران سے گزر رہی ہے اور اس کے لیے فوجی اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے،امریکی صدر کے مطابق ایران پر دباؤ کے باوجود معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم اگر مذاکرات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو امریکا اپنے دیگر آپشنز استعمال کرسکتا ہے۔

editor

Related Articles