موبائل ایپ سے منگوائیں سورج کی روشنی، امریکی کمپنی کا انوکھا منصوبہ

موبائل ایپ سے منگوائیں سورج کی روشنی، امریکی کمپنی کا انوکھا منصوبہ

دنیا میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب ایک ایسا منصوبہ سامنے آیا ہے جو رات کے تصور کو بھی بدل سکتا ہے۔ امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل خلا میں بڑے بڑے آئینے نصب کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جن کے ذریعے سورج غروب ہونے کے بعد بھی زمین کے مخصوص علاقوں تک روشنی پہنچائی جاسکے گی۔

یہ منصوبہ جتنا حیران کن ہے، اتنے ہی اس کے ممکنہ نقصانات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات اور ماحولیات کو خدشہ ہے کہ خلا سے زمین پر روشنی پہنچانے کا یہ تجربہ رات کے قدرتی اندھیرے، جنگلی حیات اور فلکیاتی مشاہدات کو متاثر کرسکتا ہے۔

سائنسی جریدے ’دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کیلیفورنیا میں قائم کمپنی ایسے بڑے آئینے زمین کے نچلے مدار میں بھیجنا چاہتی ہے جو سورج کی روشنی منعکس کرکے رات کے وقت زمین پر منتخب مقامات کو روشن کرسکیں۔

اس منصوبے کے لیے کمپنی نے راکٹ تیار کرنے والی فرم اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے شمسی توانائی پیدا کرنے والے منصوبوں کو سورج غروب ہونے کے بعد بھی کام کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں روشنی پہنچانے اور ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی یہ ٹیکنالوجی استعمال کی جاسکتی ہے۔

خلا میں آئینے کیسے کام کریں گے؟

منصوبے کے تحت تقریباً 18 بائی 18 میٹر سائز کے بڑے آئینے خلا میں نصب کیے جائیں گے۔ یہ آئینے سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین کے مخصوص مقامات کی طرف بھیجیں گے۔

ابتدائی تجربے میں تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑے علاقے کو روشنی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے آئینوں کی پوزیشن مسلسل تبدیل کرنا ہوگی تاکہ روشنی مطلوبہ مقام تک پہنچتی رہے۔

یہ بھی پڑھیں:2 دہائیوں سے گم نایاب پینٹنگ کیسے ملی؟ اے آئی نے پولیس کا کام آسان کردیا

کمپنی کا پہلا تجربہ 2027 کی دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے، جس کے لیے ’ایئرینڈل ون‘ نامی سیٹلائٹ استعمال کی جائے گی۔

2035 تک خلا میں 50 ہزار آئینے نصب کرنے کا منصوبہ

ریفلیکٹ آربیٹل کا ہدف صرف چند سیٹلائٹس بھیجنا نہیں بلکہ 2035 تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس پر مشتمل ایک بڑا نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔

کمپنی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان آئینوں سے منعکس ہونے والی روشنی تقریباً چاندنی جتنی ہوگی، تاہم سیٹلائٹس کی تعداد بڑھنے کے ساتھ روشنی کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھایا جاسکے گا۔

منصوبے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ صارفین موبائل ایپ کے ذریعے اپنی مطلوبہ جگہ منتخب کرکے وہاں روشنی پہنچانے کی درخواست دے سکیں گے۔ یعنی کمپنی کا تصور سورج کی روشنی کو ضرورت کے مطابق حاصل کی جانے والی سروس میں تبدیل کرنا ہے۔

رات کے قدرتی اندھیرے کو خطرہ؟

اس منصوبے پر سب سے اہم اعتراض اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات سے متعلق ہے۔اگست 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں جائزہ لیا گیا کہ خلا سے منعکس ہونے والی روشنی زمین کی فضا سے گزرنے کے بعد کس طرح پھیل سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق فضا میں موجود گیسوں کے مالیکیولز اور گردوغبار کے ذرات روشنی کو مختلف سمتوں میں بکھیر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روشنی صرف اس مقام تک محدود نہیں رہے گی جہاں اسے پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہو بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی پھیل سکتی ہے۔

تحقیق میں پیش کیے گئے کمپیوٹر ماڈل کے مطابق اگر آئینے مطلوبہ مقام سے تقریباً 14 کلومیٹر دور بھی ہوں تو زمین پر پہنچنے والی روشنی پورے چاند کی روشنی سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خلا سے زمین کی طرف آنے لگی ناسا کی مشہور دوربین، 22 سالہ مشن کا اختتام

تاہم یہ نتائج سائنسی ماڈل اور حسابات پر مبنی ہیں۔ حقیقی دنیا میں اس ٹیکنالوجی کے اثرات جاننے کے لیے عملی تجربات ضروری ہوں گے۔

ماہرینِ فلکیات کی مخالفت کیوں؟

ریفلیکٹ آربیٹل کو جولائی میں امریکی ریگولیٹری ادارے سے منصوبے کے لیے منظوری مل چکی ہے، لیکن ماہرینِ فلکیات اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔مخالفین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی منظوری واپس لی جائے۔

ان کا مؤقف ہے کہ خلا میں ہزاروں عکاس سیٹلائٹس کی موجودگی رات کے قدرتی اندھیرے کو متاثر کرسکتی ہے، جس سے فلکیاتی مشاہدات اور رات کے ماحول پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

فی الحال یہ منصوبہ عملی تجربات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئینے کتنی مؤثر انداز میں روشنی مطلوبہ مقامات تک پہنچاتے ہیں اور اس عمل کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انسان واقعی سورج غروب ہونے کے بعد بھی اس کی روشنی استعمال کرسکے گا، یا خلا میں روشنی پھیلانے کی یہ کوشش زمین کے قدرتی نظام کے لیے ایک نیا مسئلہ بن جائے گی؟

editor

Related Articles