امریکا میں ایران جنگ کے معاملے پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کرنے لگے ہیں۔ نومنتخب مسلمان سینیٹر عبدل السید نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران جنگ سے پیچھے ہٹنے اور اس تنازع سے اپنی لاتعلقی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مشی گن میں گفتگو کرتے ہوئے عبدل السید نے ایران جنگ کو تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ جے ڈی وینس کو اس جنگ کے خلاف آواز بہت پہلے بلند کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق اب جنگ سے متعلق اختلاف ظاہر کرنے کے بجائے آٹھ ماہ پہلے اس کے خلاف بولنے کی ضرورت تھی۔
یہ بھی پڑھیں :امریکی سیاست میں نئی تاریخ، عبدل السید پہلے مسلمان سینیٹر منتخب، ریپبلکن امیدوار کو شکست دے دی
انہوں نے امریکی نائب صدر کے سابقہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہر فیصلے کی حمایت کی۔ اب ایران جنگ کے معاملے پر ان کی جانب سے لاتعلقی اختیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ٹرمپ کی حمایت، اب ایران جنگ سے فاصلہ
عبدل السید نے جے ڈی وینس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے فیصلوں کی حمایت کرکے ایران جنگ کے معاملے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر کو جنگ کے خلاف آواز اٹھانے کا موقع آٹھ ماہ پہلے ملا تھا لیکن انہوں نے اس وقت ایسا نہیں کیا۔ اب جنگ کے تباہ کن نتائج سامنے آنے کے بعد اس سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نومنتخب سینیٹر نے جے ڈی وینس کے طرزعمل کو بزدلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے کے بعد اب ایران جنگ سے لاتعلقی اختیار کرنا مناسب نہیں۔
ایران جنگ پر امریکی قیادت میں اختلافات کی بحث
ایران جنگ کے معاملے پر عبدل السید کا بیان امریکی سیاسی حلقوں میں جاری بحث کا ایک اہم پہلو سامنے لایا ہے۔ ان کی تنقید کا مرکز یہ سوال ہے کہ جنگ کے فیصلوں کی حمایت کرنے والے امریکی رہنما بعد میں اس تنازع سے اپنی ذمہ داری کیسے الگ کرسکتے ہیں۔


