برطانیہ کے دو بڑے ہوائی اڈوں ہیتھرو اور برمنگھم کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے کے بعد یورپ بھر میں فضائی سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیئے گئے۔
دھمکیوں کے باعث مختلف یورپی شہروں سے آنے اور جانے والی کم از کم 12 پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا جبکہ متعدد طیاروں کی تلاشی بھی لی گئی۔
برطانیہ سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں فضائی سفر کرنے والے مسافروں کو سکیورٹی خدشات کے باعث غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ دھمکیوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد پولیس اور متعلقہ سکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہوگئے اور متاثرہ پروازوں کی نگرانی شروع کردی گئی۔
پانچ یورپی شہروں سے پروازیں بھی نشانے پر
بم دھمکیوں کا دائرہ صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ کوپن ہیگن، ہیلسنکی، میڈرڈ، میلان اور وارسا سے متعلق پروازوں کو بھی دھمکیاں موصول ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں ؛برطانیہ میں دو دن میں 2 ہزار پروازیں منسوخ، اصل وجہ سامنے آگئی
ان اطلاعات کے بعد یورپ کے مختلف فضائی راستوں پر آنے اور جانے والی کم از کم 12 پروازوں کا رخ تبدیل کیا گیا۔ سکیورٹی حکام نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر طیاروں کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور ضروری جانچ پڑتال کے اقدامات کیے۔
ایزی جیٹ کی دو پروازوں کی تلاشی
سکیورٹی خدشات کے باعث نیوکاسل اور گلاسگو سے پراگ پہنچنے والی ایزی جیٹ کی دو پروازیں بھی پولیس کی کارروائی کی زد میں آئیں۔
پراگ پہنچنے پر پولیس نے دونوں طیاروں کو گھیرے میں لے کر ان کی تلاشی لی۔ ایئرلائن کے مطابق دونوں پروازوں کے مسافر معمول کے مطابق طیاروں سے اتر گئے۔
اس کارروائی کے دوران مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ طیاروں کی جانچ پڑتال کے بعد کسی بڑے نقصان یا ہنگامی صورتحال کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ڈبلن سے روم جانے والی پرواز فرانسیسی فوجی اڈے پر اتاری گئی
بم دھمکیوں کے سلسلے میں ڈبلن سے روم جانے والی ایک پرواز کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔ طیارے کو فرانس کے ایک فوجی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا جہاں سکیورٹی حکام نے اس کی مکمل تلاشی لی۔
جانچ پڑتال کے دوران کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ اس کارروائی کا مقصد طیارے اور اس میں سوار مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
ہیتھرو اور برمنگھم میں فضائی آپریشن جاری
دھمکیوں کے باوجود برطانیہ کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں ہیتھرو اور برمنگھم پر فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں :براہِ راست لندن سفر پھر ممکن، 6 سال بعد بڑی پیش رفت، پی آئی اے فلائٹ کی تاریخ سامنے آ گئی
حکام نے موصول ہونے والی دھمکیوں کو غیر معتبر قرار دیا تاہم احتیاطی تدابیر اور سکیورٹی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
یورپ کے متعدد شہروں سے منسلک پروازوں کو دھمکیاں ملنے اور طیاروں کے رخ تبدیل کیے جانے کے واقعے نے فضائی سکیورٹی کے انتظامات پر توجہ بڑھا دی ہے۔
بیک وقت مختلف فضائی راستوں پر سامنے آنے والی ان اطلاعات کے بعد مسافروں کی حفاظت اور ہوائی اڈوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔


