وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ فی الحال کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں اور اس جنگ میں کامیابی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد کے حصول تک برقرار رہے گا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پارٹی کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے البتہ بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں، تاہم انہیں باضابطہ مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وزیراعظم کے مشیر نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی مدد سے دہشت گردی کا ناسور پھیل رہا ہے، جس کی روک تھام اور خاتمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، تاہم اس جنگ میں کامیابی کے سوا کوئی دوسرا راستہ یا آپشن نہیں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے سب کو آن بورڈ لیا جائے گا تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمان کے گورنر راج سے متعلق اختلافات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے سے اختلاف ہے تو انہیں اپنی رائے رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں بڑھانا چاہتے اور نہ ہی ان سے کوئی لڑائی ہے، معاملہ صرف اختلاف رائے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رائے سے اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے تو انہیں بھی ہماری پالیسیوں اور فیصلوں سے اختلاف کرنے کا حق ہے۔ اختلاف رائے کو لڑائی یا محاذ آرائی کا نام نہیں دینا چاہیے۔
پنجاب میں کرپشن کے حوالے سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب کسی کے پاس الزامات ثابت کرنے کے لیے ثبوت موجود نہ ہوں تو ایسے الزامات عائد نہیں کرنے چاہئیں۔ چوہدری سالک حسین نے خود بھی کہا ہے کہ ان کے پاس ان الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے اس بیان میں ایک طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج برقرار رکھنے کے حکومتی مؤقف کا اعادہ کیا گیا ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، سیاسی رابطوں اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اختلاف رائے کو لڑائی میں تبدیل نہ کرنے کی حکومتی پوزیشن بھی واضح کی گئی ہے