خیبرپختونخوا حکومت کے 180 روزہ ’’ابھرتا خیبرپختونخوا پلان‘‘ کے تحت 3 ارب 6 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کے 9 نئے ترقیاتی منصوبے تیار کر لیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں بی آر ٹی فیڈر روٹ کی توسیع، پولیس چوکیوں کی مضبوطی، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت کے ذریعے سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور نوجوانوں کی فنی تربیت کے منصوبے شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق مذکورہ 9 منصوبے پہلے سے جاری ترقیاتی پروگرام کا حصہ نہیں ہیں، تاہم انہیں 180 روزہ ابھرتا خیبرپختونخوا پلان کے تحت ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے تحت 6 منصوبے تجویز کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی لاگت ایک ارب 76 کروڑ 70 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت پشاور سے نوشہرہ تک بی آر ٹی فیڈر روٹ کی توسیع کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد بی آر ٹی کی خدمات کو مزید علاقوں تک توسیع دینا ہے۔
اسی طرح محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے تحت شہریوں کے لیے سہولت مراکز کے قیام اور ڈیجیٹل شکایات کے نظام کی فراہمی کے لیے 68 کروڑ 30 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے حساس اور غیر محفوظ پولیس چوکیوں کو مضبوط بنانے اور 40 ہزار ہیسکو بیگز کی فراہمی کے منصوبے کے لیے 46 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق صوبے کے ایسے علاقوں جہاں مواصلاتی سہولیات دستیاب نہیں، وہاں آڈیو اور ویڈیو سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے نظام کے قیام کے لیے 32 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نوجوانوں کو روزگار کے لیے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کے منصوبے کے تحت 29 مختلف شعبوں میں 700 نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی، جس کے لیے 17 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ جعلی خبروں کی روک تھام اور سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کی فراہمی کا منصوبہ بھی 180 روزہ پلان میں شامل کیا گیا ہے، جس پر 7 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
دستاویز کے مطابق ان نئے ترقیاتی منصوبوں کو 180 روزہ ابھرتا خیبرپختونخوا پلان کا حصہ بنانے کی تیاری کی گئی ہے، جن میں ٹرانسپورٹ، شہری سہولیات، سیکیورٹی، مواصلات، ڈیجیٹل نگرانی اور نوجوانوں کی فنی تربیت کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔