غریبوں کے نام پر جاری فنڈز پر مافیا کا شب خون ، خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ پلس کے نام پر 35 ارب 2 کروڑ کے فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات شروع

غریبوں کے نام پر جاری فنڈز پر مافیا کا شب خون ، خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ پلس کے نام پر 35 ارب 2 کروڑ کے فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات شروع

خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت اربوں روپے کے اخراجات اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے محکمہ صحت نے جامع انکوائری کا فیصلہ کرلیا۔ مشیر صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈاکٹر نگار جوہر کی ہدایت پر سمری تیار کرلی گئی ہے، جس کی منظوری کے بعد تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

مجوزہ انکوائری میں 2019ء سے 2026ء تک پروگرام کے مالی و انتظامی معاملات، سرکاری و نجی پینل ہسپتالوں، مریضوں کے علاج، ہسپتالوں کو کی جانے والی ادائیگیوں اور علاج کے دعووں کی جانچ ہوگی۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ سرکاری خزانے سے جاری ہونے والی رقوم کس طریقہ کار کے تحت خرچ ہوئیں اور ادائیگیوں کی تصدیق و منظوری کس سطح پر کی جاتی رہی۔

محکمہ صحت کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں صحت کارڈ پلس کے تحت 11 لاکھ 98 ہزار 140 مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی، جس پر 35 ارب 2 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ ان میں سرکاری ہسپتالوں میں 7 لاکھ 63 ہزار 688 اور نجی ہسپتالوں میں 3 لاکھ 69 ہزار 255 مریضوں کے داخلے رپورٹ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سے کوئٹہ تک پھیلی کالی کمائی کا نیٹ ورک، فضل الرحمٰن کا خاص آلہ کار کامران مرتضیٰ قانون کے شکنجے میں آ گیا ، ایف آئی نے طلب کر لیا

انکوائری میں پینل ہسپتالوں کی تعداد اور ان کی اہلیت بھی زیرِ جانچ آئے گی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق دسمبر 2024ء میں 130، اکتوبر 2025ء میں 158 جبکہ اگست 2026ء میں 170 پینل ہسپتالوں کا ذکر سامنے آیا۔ تحقیقات میں ہسپتالوں کی منظوری، طبی سہولتوں، رجسٹریشن، مریضوں کے داخلوں اور انہیں کی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پہلے بھی 200 سے زائد نجی ہسپتالوں سے 2019ء سے 2026ء تک کا ریکارڈ طلب کرچکا ہے، جس میں مریضوں کے داخلوں، آپریشنز، ادویات اور ادائیگیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ مجوزہ انکوائری میں ان دستاویزات کی بنیاد پر ہسپتالوں کے دعووں اور اصل علاج کا تقابلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔

دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) بھی صحت کارڈ پلس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو طلب کرکے مالی معاملات کا ریکارڈ مانگ چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق نیب نے مالی سال 2023-24ء میں تقریباً 12 ارب روپے کی ادائیگیوں اور جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء کے دوران مختص یا جاری ہونے والی تقریباً 9 ارب روپے کی رقوم سے متعلق دستاویزات طلب کی تھیں۔ ان میں بینک اسٹیٹمنٹس، آڈٹ رپورٹس، معاہدوں اور مستفید ہونے والے مریضوں کی فہرستیں شامل ہیں۔

انکوائری کی تیاری ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب پروگرام کے موجودہ سربراہ 7 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق محکمہ صحت انہیں مزید توسیع نہ دینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پروگرام کی سربراہی اور مالی و انتظامی ریکارڈ کی حوالگی بھی اہم معاملہ ہوگا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ صحت کارڈ پلس کے تحت اربوں روپے کی ادائیگیوں کی مکمل تصدیق کس طرح کی گئی؟ ہسپتالوں کے علاج کے دعووں اور مریضوں کے اصل ریکارڈ میں کتنی مطابقت ہے؟ پینل میں ہسپتالوں کی شمولیت اور ادائیگیوں کی منظوری کا ذمہ دار کون تھا؟ اور اگر مالی یا انتظامی بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو ان کا جواب کون دے گا؟

Qaisar Mirza
editor

Related Articles