امریکا ایران مذاکرات کی ناکامی کی افواہیں بے بنیاد، قطر کا دوٹوک تردیدی بیان جاری

امریکا ایران مذاکرات کی ناکامی کی افواہیں بے بنیاد، قطر کا دوٹوک تردیدی بیان جاری

قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ناکامی سے متعلق تمام آن لائن رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کے بیانات کو دانستہ طور پر مسخ کیا گیا۔

قطر کے دفترِ بین الاقوامی میڈیا نے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششوں کے ناکام ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مدارس کے چندے سے قطر اور دبئی کے محلات تک، فضل الرحمان کے کالے کرتوتوں اور چھپائے گئے اثاثوں کا پردہ فاش

قطری ترجمان نے ان رپورٹس کو سراسر غلط، گمراہ کن اور ’جھوٹا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اصل ریمارکس کو ان کے اصل تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا تاکہ جاری سفارتی عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے عناصر جو خطے میں مستقل جنگ اور عدم استحکام سے سیاسی یا مادی فوائد حاصل کرتے ہیں، اس قسم کے من گھڑت پروپیگنڈے کو دانستہ طور پر ہوا دے رہے ہیں۔

پچھلے چند برسوں سے خطے میں امریکا اور ایران کے مابین تناؤ کو کم کرنے کے لیے قطری قیادت نے ہمیشہ ایک کلیدی اور فعال ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

دوحہ نے ہمیشہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست اور بالواسطہ رابطوں کو بحال رکھنے کے لیے سفارتی پُل کا کام کیا ہے۔

موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سنگین نوعیت کے بحرانوں اور تنازعات کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں کسی بھی سطح پر ہونے والی سفارتی پیشرفت کو متنازع بنانا یا اس میں ناکامی کا تاثر دینا خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچانے کی گہری سازش کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

سفارتی حکمت عملی اور تجزیاتی جائزہ

بین الاقوامی سیاست میں مذاکرات کے دوران اس نوعیت کی ابہام پیدا کرنے والی خبریں دراصل اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ سفارتی محاذ پر پسِ پردہ کوئی انتہائی اہم پیشرفت جاری ہے۔

جب بھی فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک ٹوٹنے کے واضح آثار نمودار ہوتے ہیں، مفاد پرست لابیوں کی طرف سے مایوسی پھیلانے والی اطلاعات عام کی جاتی ہیں تاکہ فضا کو مکدر کیا جا سکے۔

قطر کا یہ فوری، سخت اور دوٹوک تردیدی بیان نہ صرف دوحہ کی پختہ سفارتی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر خطے کو نئی محاذ آرائی کی طرف جانے نہیں دینا چاہتا۔

مزید پڑھیں:قطر اور پاکستان کی ثالثی  خلیجی محاذ پر جاری کشیدگی کو روک سکے گی؟ قطری وفد اہم پیغام لے کر تہران پہنچ گیا

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پائیدار حل کے لیے بات چیت کا تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی اب بھی پوری طرح فعال ہے اور معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔

ثالثی کا تسلسل اور آئندہ کا لائحہ عمل

بیان کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قطری حکام واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہیں اور موجودہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

قطر کی جانب سے اس منفی پروپیگنڈے اور بے بنیاد افواہوں کا فوری نوٹس لینا اس بات کی علامت ہے کہ دوحہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ثالثی کی ذمہ داریوں کو انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، سنجیدگی اور پختگی کے ساتھ نبھا رہا ہے۔

Related Articles