دین کی آڑ میں بیرونِ ملک کھربوں کے محلات، فضل الرحمان کی بدترین کرپشن اور مکارانہ تاریخ کا سب سے بدبودار باب ،مولانا فضل الرحمان کی دبئی و قطر میں بھی جائیدادیں نکل آئیں ، تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں ۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی دبئی اور قطر میں قائم قیمتی جائیدادوں اور بھاری سرمایہ کاری کی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی ان کے اربوں روپے کے اثاثوں بھی سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور جائیدادیں پردہ فاش ہو کر سامنے آ چکی ہیں، انہوں نے اپنے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی ریاست قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھاری سرمایے کی منتقلی کے ذریعے گرانقدر جائیدادیں بنائیں۔
دبئی میں ان کی املکیت میں ایک اپارٹمنٹ اور قیمتی فلیٹ نکل آیا ہے، جبکہ قطر میں بھی ان کی جائیدادیں اور مختلف تجارتی منصوبوں میں کی گئی بھاری سرمایہ کاری کی تصدیق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی دستاویزات اور موصولہ تفصیلی رپورٹس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمان اور ان کے فرنٹ مینوں کے نام تقریباً 68 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کی 3,640 کنال اراضی کے علاوہ 17,192 کنال سے زائد اراضی کا انکشاف ہوا ہے وانڈہ مدد میں 1,000 کنال، ٹانک روڈ پر 600 کنال اراضی، بنوں روڈ پر تجارتی پلازے اور دکانیں بھی ان کی جائیدادوں میں شامل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اعلیٰ سیکٹر ایف ایٹ (F-8) میں ایک قیمتی بنگلہ، سیکٹر جی-13 میں مرکزی مدرسے کے لیے سرکاری زمین کی الاٹمنٹ، چک شہزاد میں 3 ارب روپے کے پلاٹس، اور شورکوٹ میں 88 کنال اراضی سامنے آئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے اہم مراکزمیں بھی فلیٹس اور دکانیں نکل آئی ہیں۔ علاوہ ازیں، 2011 میں محکمہ جنگلات کی 600 کنال زمین کوڑیوں کے بھاؤ الاٹ کرانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
