ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا ارباب خضر حیات نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کی جانب سے آنے والے بیانات کسی صورت ایک محب وطن سیاسی جماعت کا بیانیہ نہیں ہیں۔ کبھی پاک فوج کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں اور کبھی معدنیات (مائن اینڈ منرلز) کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کو وسائل دے دیے گئے ہیں یا پاک فوج تمام معدنیات لے گئی ہے۔ اس قسم کے بیانات ملک کے مفاد میں نہیں اور ایک دینی جماعت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتے۔
ارباب خضر حیات نے کہا کہ موجودہ ملکی اور بالخصوص خیبرپختونخوا کی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مولانا فضل الرحمان صوبے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ایسی تجاویز سامنے لائیں جن سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو، نہ کہ وہ غیر ضروری معاملات میں الجھ کر ایسے بیانات دیں۔
انہوں نے کہا کہ مفتی محمود مرکز پشاور کے حوالے سے کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ تجاوزات پر قائم ہے۔ ایک دینی جماعت کے سربراہ ہونے کے ناطے مولانا فضل الرحمان کو خود تجاوزات ختم کرکے ایک مثال قائم کرنی چاہیے تھی، کیونکہ اسلام بھی یہ سکھاتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر سڑک کشادہ کرنے کے لیے راستہ بنایا جائے۔ افسوس کہ مولانا اور ان کی جماعت نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کی سیاست کی ہے۔
ارباب خضر حیات کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان نے اپنے برخوردار کے لیے بہترین وزارت اور خیبرپختونخوا کی گورنر شپ مانگی تھی، جبکہ اب انہیں حکومت میں حصہ نہیں ملا اور وہ اقتدار سے باہر ہیں تو ان کی جانب سے الٹے سیدھے بیانات سامنے آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :فضل الرحمان کا ایک اور سکینڈل منظرعام پر، عجب عجب کرپشن کی داستانیں، آئے روز میڈیا پر نئی کہانی، متعلقہ اداروں کو فوری حرکت میں آنا ہوگا، شہریوں کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ اب دور بدل چکا ہے، یہ 2026ء کا زمانہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے رہنما کبھی ڈیجیٹل چینلز کے سی ای اوز کے خلاف، کبھی پاک فوج کے خلاف اور کبھی ریاست کو چیلنج کرتے ہوئے بیانات دیتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت میں اب پی ٹی آئی کی روح داخل ہوچکی ہے، کیونکہ ان کا بیانیہ، حرکات و سکنات اور بولنے کا انداز بالکل پی ٹی آئی جیسا ہوچکا ہے۔ جس طرح پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا، وہی حال مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا بھی ہوگا، کیونکہ ریاست کو چیلنج کیا جائے گا تو وہی سلوک ہوگا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔
ارباب خضر حیات نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور پورے ملک میں اب پی ٹی آئی کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے۔ ان کے 20 یا 40 لاکھ افراد اکٹھے کرنے اور اسلام آباد مارچ کے دعوے سب کے سامنے ناکام ہوئے۔ ملک اور خیبرپختونخوا کے عوام حکومت پاکستان، ریاست اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ عوام جان چکے ہیں کہ کون ان کا مخلص ہے اور کون نہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست مخالف بیانیہ ترک کردیں، بصورت دیگر ریاست حرکت میں آئے گی اور اس کے تمام تر ذمہ دار خود مولانا فضل الرحمان ہوں گے۔