پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ویڈیو آڈیو لیک ہونے کے خدشے کے پیش نظر اجلاسوں میں موبائل فون لانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی آڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی اجلاسوں میں شرکت اور خطاب کی ویڈیو آڈیو لیک ہونے کے خدشے کے پیش نظر اجلاسوں کے دوران بشری بی بی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے لیے موبائل لانے پر پابندی عائد کردی گئی، گزشتہ اجلاسوں میں بھی ممبران اور عہدیداروں سے موبائل لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹوئٹر سے مماثلت رکھنے والے پلیٹ فارم ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اچانک اضافہ
ذرائع نے مزید بتایا کہ بشریٰ بی بی کی ویڈیو آڈیو لیک ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے موبائل کی اجازت نہیں تاہم، اس کے باجود بشریٰ بی بی کے پارٹی عہدیداروں اور رہنماؤں سے خطاب کی آڈیو سامنے آگئی۔
آڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ بشریٰ بی بی کہتی ہیں میں بانی پی ٹی آئی کا پیغام لائی ہوں، کل کوئی یہ نہ کہے کہ بانی کا پیغام ہمارے پاس نہیں پہنچا، ہر ایک کے پاس ان کا پیغام پہنچا دیا ہے۔
بشریٰ بی بی نے کہا کہ ایم پی اے 5 ہزار اور ایم این اے 10 ہزار افراد کا قافلہ لائے گا، کل کوئی یہ نہیں کہے کہ مجھے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کا عمل اب شروع ہوگا، آپ لوگوں نے گرفتاری سے بچنے کی حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔


