وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے،انتشاری ٹولے میں شرپسند عناصر کی فوری شناخت کرکے ان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں وزیر اعظم کو گزشتہ دنوں ملک میں دھرنوں کی صورت میں احتجاج کرنے والوں کی جانب سے سرکاری املاک اور پولیس و رینجرز کے اہلکاروں پر حملے پر بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں تاریخی کرپشن اور اپنی حکومت بچانے کیلئے اس کو دیوالیہ کرنے والوں کی مذموم سازشیں رچانے والے قانون کی گرفت میں آئے ہیں،قانونی راستہ اپنانے کی بجائے بارہا اسلام آباد کی طرف لشکر کشی کرکے ملک بھر میں انتشار کی فضاء پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتشاری ٹولے کی لشکر کشی کے دوران سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو زخمی اور شہید کیا گیا۔
وزیر اعظم نے سوال کیا کہ یہ کیسے انقلابی ہیں جو اس ملک کی تباہی اور انتشار پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں، اس حوالے سے استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لائی جائے، شرپسند ٹولے کے منتشر ہوتے ہی سٹاک ایکسچینج ایک لاکھ پوائنٹس کی حد عبور کر گئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس انتشار پھیلانے کی مذموم کوششوں کے نتیجے میں ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا،ملک کو معاشی نقصان کے ذمہ دار انتشاری ٹولہ اور اس کے کرتا دھرتا ہیں، انتشاری ٹولے کی لشکر کشی کے دوران اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے اہلکاروں کو مجھ سمیت پوری قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد یا ملک کے کسی بھی شہر پر ذاتی مقاصد کے حصول کیلئے لشکر کشی کو روکنے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ دنوں کے واقعات میں عوام میں اشتعال، بے یقینی اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بلوائیوں سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد اور ملک بھر میں اینٹی روائٹس (Anti Riots) فورس قائم کی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، مشیر رانا ثناء اللہ، اٹارنی جنرل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔