چاند بظاہر ایک خاموش اور بے جان دنیا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی مٹی اور چٹانوں میں آج بھی اس کے قدیم ماضی کے کئی راز محفوظ ہیں۔چین کے چانگ ای 6 مشن کے ذریعے چاند کے دور دراز حصے سے زمین پر لائے گئے نمونوں کے تجزیے کے دوران سائنس دانوں نے دھاتی لوہے کی ایک ایسی شکل دریافت کی ہے جو چاند کی قدرتی مٹی میں اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔
محققین کے مطابق یہ ’گاما آئرن‘ انتہائی باریک ذرات کی شکل میں موجود ہے اور اربوں سال پہلے چاند کی سطح پر ہونے والے شدید ٹکراؤ کے دوران بننے والے شیشے جیسے ذرات میں محفوظ ہوگیا تھا۔
چاند کے قدیم مقناطیسی میدان کا سراغ
سائنس دانوں کے لیے اس دریافت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ننھے ذرات چاند کے قدیم مقناطیسی میدان کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ان ذرات کو ایک طرح کے ’مقناطیسی فوسل‘ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطالعے سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ اربوں سال پہلے چاند کا مقناطیسی میدان کتنا طاقتور تھا اور وقت کے ساتھ اس میں کس طرح تبدیلی آئی۔
آج چاند کے پاس عالمی سطح کا مضبوط مقناطیسی میدان موجود نہیں، تاہم اس کی چٹانوں اور مٹی میں قدیم مقناطیسی سرگرمی کے آثار اب بھی محفوظ ہیں۔نئی دریافت سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ چاند کا مقناطیسی ماحول کب کمزور ہوا، اس کی شدت میں کمی کیوں آئی اور اس دوران چاند کے اندرونی حصے میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
چانگ ای 6 مشن کی اہمیت
چین کا چانگ ای 6 مشن 2024 میں چاند کے دور دراز حصے سے نمونے زمین پر لایا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جب چاند کے اس حصے سے نمونے زمین پر پہنچائے گئے۔ ان نمونوں پر مسلسل تحقیق کے نتیجے میں سائنس دانوں کو چاند کی اندرونی ساخت، اس کی سطح پر ہونے والے قدیم واقعات اور اس کے ارتقائی سفر کے بارے میں نئی معلومات مل رہی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق چاند کی مٹی میں چھپے یہ انتہائی معمولی دکھائی دینے والے ذرات مستقبل میں ہمارے پڑوسی سیارچے کے اربوں سال پرانے ماضی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔