پشاور: پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈرز کو بلا کر مشاورت کی جائے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ بار بار مشاورت کی ضرورت نہ پڑے۔
انہوں نے وزیر خارجہ کو واضح کیا تھا کہ خارجہ پالیسی پر مشاورت کی جائے۔
پشاور ہائیکورٹ میں راہداری ضمانت کی پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پر پیش رفت کی بات کی اور کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں آگے بڑھ چکی ہے، اب حکومت کی باری ہے کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں مثبت قدم اٹھائے۔
انہوں نے نو مئی کے واقعات کے بارے میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک جوڈیشل کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ وہ تمام کیسز کی جانچ پڑتال کرے اور انصاف پر مبنی فیصلہ کیا جائے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ جب تک انصاف نہیں ہوگا، ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ملٹری کورٹ میں ٹرائلز پر اسد قیصر نے کہا کہ پوری دنیا نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سول کیسز کو ملٹری کورٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قوم کے لیے مایوسی کا سبب بتایا۔
اسد قیصر نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور وہ اس کا نوٹس لیں۔