پاکستان کی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی “پی آئی اے” نے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا شکار ہونے والے پیرس پرواز کے اشتہار پر وضاحت پیش کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے واضح کیا ہے کہ بدقسمتی سے اس اشتہار کا تعلق اور تاثر اس سے جوڑا گیا جو کہ اس کا کسی طور مقصد نہیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اس اشتہار کو ایسے پیش کیا گیا جس سے منفی جذبات نے جنم لیا جس پر ہم واقعی معذرت خواہ ہیں۔
قومی ایئر لائن کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس اشتہاری پوسٹ پر تقریباً چھ ہزار سے سات ہزار کے درمیان منفی ردعمل آئے تھے جو کہ مجموعی ردعمل کا 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ اکثریت نے قومی ایئر لائن کی پیرس کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کو سراہا اور مثبت ردعمل دیا جو کہ اشتہار کا اصل مقصد تھا۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے مذاق بننے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اس اشتہار کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو ایک حماقت کو ظاہر کرتا ہے۔ خیال رہے کہ پی آئی اے کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 10 جنوری کی اشتہاری پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ اب پیرس کے لیے براہ راست پرواز بحال ہو رہی ہیں۔
اس اعلان کے ساتھ جو تصویر شیئر کی گئی تھی اس میں پی آئی اے کے طیارے کو ایفل ٹاور کی طرف اڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے پس منظر میں پیرس کے جھنڈے کی ہلکی سی جھلک بھی ہے۔ تاہم جھنڈے کا سرخ رنگ قدرے نمایاں ہے اور اسی حصے میں طیارہ ایفل ٹاور کی جانب اُڑتا دکھائی دے رہی ہے جیسے کسی بھی وقت ٹاور سے ٹکرا جائے گا۔
سوشل میڈیا صارفین کو یہ اشتہار کچھ زیادہ پسند نہیں آیا۔ طیارے کے ایفل ٹاور کے اتنے نزدیک ہونے کو نائن الیون حملے کی تصاویر سے جوڑ دیا گیا تو کسی نے مارکیٹنگ ٹیم کو فارغ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک صارف نے لکھا تھا کہ “کیا یہ (ایک) اشتہار ہے یا دھمکی؟ ایک اور نے کمنٹ کیا کہ میں آپ کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے چیف سے بات کرنا چاہوں گا۔