خیبرپختونخوا شعبہ انسدادِ دہشتگردی نے انتہائی مطلوب 14 دہشتگردوں کے سر کی قیمت مقرر کرتے ہوئے فہرست جاری کر دی ہے، مجموعی طور پر دہشتگردوں کے سروں کی قیمت 13 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
شعبہ انسدادِ دہشتگردی خیبر پختونخوا کے مطابق ریاست کو مطلوب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 14 دہشتگرد ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات، دہشتگردی، امدادی قافلوں کی لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ اور بچوں و خواتین سمیت 200 سے زیادہ افراد کے قتل میں ملوث ہے۔
فہرست کے مطابق کاظم عرف احمد کے سر کی قیمت سب سے زیادہ 3 کروڑ روپے رکھی گئی ہے جبکہ امجد عرف محمد کے سر کی قیمت 2 کروڑ، مکرم خان کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ، درویش وزیر، سیف اللہ، عثمان عرف شفیق، نور اللہ عرف درویش کے سروں کی قیمت ایک ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
عثمان کے سر کی قیمت 80 لاکھ، مولانا طیب کے سر کی قیمت 50 لاکھ، یاسین عرف شاہین، آدم ساز عرف پراگے، منصور، وزیر مہمند عرف ملنگ اور اسامہ کے سروں کی قیمت 30، 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔