لیگی رہنما شیخ شبیر کا قتل، اہم شواہد مل گئے، 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، مقدمہ بھی درج

لیگی رہنما شیخ شبیر کا قتل، اہم شواہد مل گئے، 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، مقدمہ بھی درج

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور انجمن تاجران کے مرکزی چیئرمین شیخ شبیر احمد کو لاہور جاتے ہوئے ایس اے گارڈنز کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، واقعے کا مقدمہ 8 نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

 پولیس کے مطابق مریدکے میونسپل کمیٹی کے سابق چیئرمین میاں شیخ شبیر احمد رات تقریباً 10 بجے اپنی گاڑی میں لاہور جا رہے تھے۔ ایس اے گارڈنز فیز ٹو کے قریب 2 گاڑیوں میں سوار 8 نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا۔

ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق 4 حملہ آوروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

فیروز والا پولیس سٹیشن میں مقتول کے چھوٹے بھائی اور سابق کونسلر میاں کبیر احمد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن سوگوار، سابق صوبائی وزیر حاجی احسان الدین قریشی چل بسے

واقعے کے بعد پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا ہے۔ بعد ازاں میت کو تدفین کے انتظامات کے لیے مریدکے کے بنگلہ روڈ پر واقع ان کی پرانی رہائش گاہ ’قصرِ مصطفیٰ‘ منتقل کر دیا گیا۔

ابتدائی تفتیش اور شواہد کی جمع آوری

پولیس ترجمان رانا محمد یونس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم ابھی تک حتمی محرکات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شیخوپورہ بلال ظفر شیخ نے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ فارنزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تفتیش کاروں نے جدید تکنیک کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور تحقیقاتی ٹیم

پولیس کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے اہم سراغ ملے ہیں۔ تفتیش کار مقتول کے فیکٹری سے نکلنے کے وقت کے اردگرد فعال موبائل نمبرز اور فون کالز کے ریکارڈ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے ڈی پی او نے ایس پی نواز سیال کی سربراہی میں 4 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صوبے میں جرائم کی شرح اور خصوصاً سیاسی و سماجی شخصیات پر حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لیگی رہنما شیخ شبیر کا قتل، اہم شواہد مل گئے، 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، مقدمہ بھی درج

مقتول شیخ شبیر احمد نہ صرف ایک متحرک سیاسی رہنما تھے بلکہ انجمن تاجران کے مرکزی عہدیدار ہونے کے ناطے مقامی تاجر برادری میں بھی گہرا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔

اس قتل نے مقامی سیاست اور تاجر برادری میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، جو مقتول کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے اس واقعے پر آئی جی پنجاب سے رابطہ کیا ہے اور ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکیورٹی اور کرائم امور کے ایک تجزیہ کار کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بظاہر ایک سوچی سمجھی اور منظم ٹارگٹ کلنگ کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

 8 افراد کا 2 گاڑیوں میں سوار ہو کر تعاقب کرنا اور پھر مخصوص مقام پر گاڑی روک کر فائرنگ کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حملہ آوروں نے مقتول کی نقل و حرکت کی مکمل ریکی کر رکھی تھی۔

اگرچہ پولیس اسے ابتدائی طور پر دیرینہ دشمنی قرار دے رہی ہے، لیکن مقتول کے سیاسی اور تاجر برادری میں نمایاں قد کاٹھ کو دیکھتے ہوئے اس میں دیگر محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جیو فینسنگ اور سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈیٹا اس کیس کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، تاہم پولیس کا اصل امتحان سیاسی اور سماجی دباؤ سے بالاتر ہو کر شفاف تفتیش کے ذریعے اصل ملزمان تک پہنچنا ہوگا۔

Related Articles