بھارت بندوق کی نوک پر مسلم شہریوں کو غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش بھیج رہا ہے،انسانی حقوق کی تنظیموں کا انکشاف

بھارت بندوق کی نوک پر مسلم شہریوں کو غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش بھیج رہا ہے،انسانی حقوق کی تنظیموں کا انکشاف

  خصوصی رپورٹ :انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کی طرف سے اپنے ہی مسلم شہریوں کو زبردستی بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی رپورٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ اقدام مذہبی اقلیتوں کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہو سکتا ہے،درجنوں افرادجن میں بزرگ بچے،معذور افراد شامل ہیں نے بتایا کہ انہیں بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست میں لے کر بھارت سے بنگلہ دیش سرحد پار کروا دی گئی۔

کئی افراد نے بتایا کہ انہیں بندوق کی نوک پر دھمکایا گیا اور بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی جانب سے انکار کے بعد واپسی پر خطرناک راستوں سے گزرنے پر مجبور کیا گیا ۔
حازرہ خاتون ایک 62 سالہ معذور دادی ان متاثرین میں شامل تھیں جنہیں زبردستی سرحد پار کرا ئی گئی ان کی بیٹی جورینہ بیگم کے مطابق ان کے خاندان کے پاس دو نسلوں سے بھارتی شہریت کی مکمل دستاویزات موجود ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی کیسے ہو سکتی ہیں ؟

خاتون نے بتایا کہ انہیں 25 مئی کو حراست میں لیا گیا اور اگلی رات 14 دیگر مسلمانوں کے ساتھ ایک وین میں لاد کر سرحد کی طرف لے جایا گیا جہاں بندوق کے زور پر انہیں پار جانے پر مجبور کیا گیا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا گیا ،ہم نے احتجاج کیا کہ ہم بھارتی شہری ہیں، مگر انہوں نے بندوق دکھا کر دھمکایا اور کہا: ’اگر سرحد پار نہیں کی تو گولی مار دیں گے۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ جب چار فائر ہوئے تو ہم خوفزدہ ہو گئے اور جلدی سے سرحد پار کر لی،بنگلہ دیش میں مقامی حکام نے انہیں ایک کھیت میں حراست میں لیا، مگر جب ان کے بھارتی ہونے کے دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے تو انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

ایک بزرگ خاتون نے واپسی کے سفر کو خوفناک قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ جنگلات اور دریاؤں سے گزرنا اور اس ڈر کے ساتھ کہ کہیں بی ایس ایف دوبارہ پکڑ نہ لے۔وہ آخرکار 31 مئی کو زخمی اور گہرے صدمے کے عالم میں گھر واپس پہنچی۔

یہ خبر بھی پڑھیں :مودی کی انتہا پسند پالیسیوں اور سفارتی ناکامیوں پر امریکی جریدے نے سوال اٹھا دیے

ایک اور واقعے میں 67 سالہ ملیکہ بیگم جو آسام کی رہائشی ہیں نے بتایا کہ انہیں 27 مئی کی رات کو 20 دیگر مسلمانوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں داخل کیا گیا۔
ان کے بیٹے عمران علی نے بتایا کہ ان کی والدہ اور ان کے ساتوں بہن بھائیوں کے پاس بھارتی شہریت کے مکمل کاغذات موجود ہیں۔
ان کی ملک بدری مکمل طور پر غیرقانونی ہے عمران نے کہا کہ وہ اب سمجھ نہیں پا رہے کہ والدہ کو واپس کیسے لایا جائے ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

بھارت اور بنگلہ دیش کی انسانی حقوق تنظیموں نے ان واقعات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے تسکین فہمینہ جو کہ بنگلہ دیشی ادارہ اودھیکار کی سینئر محقق ہیں نے کہاکہ بھارت قانونی کارروائی کے بجائے غریب اور مسلم برادریوں کو زبردستی بنگلہ دیش دھکیل رہا ہے جو کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

بنگلہ دیش کا رد عمل

اب تک تقریباً 200 افراد کو بنگلہ دیشی حکام نے بھارتی شہریت کی تصدیق کے بعد واپس بھیج دیا ہے،بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بھارت کو باقاعدہ خطوط بھیجے ہیں تاکہ یہ عمل روکا جا سکے، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

آسام اور دیگر ریاستوں میں صورتحال سنگین

بھارت کی ریاست آسام میں جہاں شہریت کے قومی رجسٹر سے ہزاروں افراد کو پہلے ہی نکال دیا گیا ہے یہ کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں 100 کے قریب زیر حراست افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔
جب کہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا ہے،آسام کے بدزبان بی جے پی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے اعلان کیا ہے کہ اب تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو خودکار طور پر ملک بدر کیا جائے گا اور اس عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

مذہبی پروفائلنگ اور اکثریتی سیاست؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دراصل بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد بھارت کی تقریباً20 کروڑ مسلمان آبادی کو سماجی و سیاسی طور پر حاشیے پر ڈالنا ہے۔

یہ مہم اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب اپریل میں کشمیر میں ایک شدت پسند حملے میں 25 ہندو سیاح اور ایک گائیڈ ہلاک ہو گئے۔
بی جے پی حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا اور ملک کے اندر غیر ملکی عناصر کے خاتمے کا اعلان کیا ۔
جھوٹے دعوے، واضح حقیقتیںاگرچہ زیر حراست افراد پر بنگلہ دیشی غیر قانونی مہاجر ہونے کا الزام ہے مگر انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرہ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ بیشتر افراد طویل عرصے سے بھارت میں مقیم ہیں جن میں کئی تو وہیں پیدا بھی ہوئے۔
یہ ملک بدریاں صرف آسام میں ہی نہیں بلکہ دہلی، مہاراشٹرا، گجرات اور راجستھان میں بھی ہو رہی ہیں۔
مثال کے طور پرگجرات میں پولیس نے 6,500 افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، مگر بعد میں واضح ہوا کہ صرف 450 افراد ہی درحقیقت کاغذی طور پر غیر دستاویزی تھے۔

۔*ممبئی میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے چار مسلمان مردوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیجا گیا، مگر بعد میں جب تصدیق ہوئی کہ وہ بھارتی شہری ہیں، تو بنگلہ دیش نے انہیں واپس بھیج دیا۔ بنگلہ دیش بارڈر گارڈز کے سربراہ، میجر جنرل محمد اشرف الزمان صدیقی نے اس عمل کی شدید مذمت کی “لوگوں کو جنگلات میں چھوڑ دینا، خواتین و بچوں کو دریاؤں میں دھکیلنا یا بے ریاست افراد کو سمندر میں چھوڑ دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔
بھارتی حکام کی خاموشی بھارتی بی ایس ایف اور آسام پولیس سے بارہا رابطے کے باوجود انہوں نے ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا۔
مگر انسانی حقوق کے گروپ اس تمام صورتحال سے شدید فکرمند ہیں یہ واقعات ایک ایسی پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں جو مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بناتی ہے  اور جس کے پیچھے سیاسی مقاصد پوشیدہ ہیں۔

آزاد ریسرچ ڈیسک کا مؤقف

یہ صورتِ حال بھارت میں اقلیتوں کے لیے ایک انسانی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ریاستی طاقت کا اس طرح استعمال  نہ صرف آئینی حقوق کی پامالی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان بھی ہے عالمی برادری کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے۔

Related Articles