آبنائے ہرمز سے تیل کی عالمی ترسیل ،امریکی وزیر توانائی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

آبنائے ہرمز سے تیل کی عالمی ترسیل ،امریکی وزیر توانائی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

 امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس راستے سے روزانہ اوسطاً تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

کرس رائٹ کے مطابق خلیجی خطے سے توانائی کی ترسیل بحال کرنے کے لیے امریکی فوج اور خلیجی ممالک کے درمیان مربوط کوششیں جاری ہیں جن کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑا دعویٰ سامنے آگیا

امریکی وزیر توانائی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ آبنائے ہرمز کے علاوہ خطے سے مزید 50 سے 70 لاکھ بیرل یومیہ تیل جدید پائپ لائنوں اور برآمدی سہولیات کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان تمام ذرائع کو ملا کر خلیجی خطے سے تیل کی مجموعی ترسیل تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ تک پہنچ رہی ہے۔

کرس رائٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف اتوار کے روز خلیجی خطے سے 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کیا گیا جو ان کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے قبل کی اوسط برآمدی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔

تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی حقیقی ترسیل کے اعداد و شمار کے حوالے سے بعض توانائی ماہرین کے اندازے امریکی وزیر کے دعوے سے مختلف ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات نمایاں ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کی مخالفت کے باوجود فرانس نے آبنائے ہرمز میں مائن ہنٹرز جہاز تعینات کردیے، تجارتی گزرگاہ میں نیا تنازع

دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق سخت مؤقف برقرار ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا فیصلہ مخصوص شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اس لیے یہاں آمدورفت میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی تیل کی رسد اور قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نہ صرف تیل کی عالمی منڈی بلکہ ایشیا سمیت ان تمام خطوں کے لیے اہم ہے جو خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔

editor

Related Articles