پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے 9 مئی کے واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو نہ صرف قانون کا سامنا کرنا ہوگا بلکہ انہیں قوم سے معافی بھی مانگنی چاہیے، برسلز ایونٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کسی صحافی کو انٹرویو دیا نہ کسی فرد یا جماعت کو معافی دینے کی بات کی، یہ محض پروپیگنڈا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ایک صحافی کے کالم پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ 9 مئی 2023 کو جو کچھ ہوا، وہ صرف پاک فوج کے خلاف نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم سازش تھی۔ ان کے مطابق اس دن بعض عناصر نے عسکری تنصیبات پر حملے کر کے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
صحافی کی رپورٹنگ پر وضاحت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بعض میڈیا رپورٹس کی بھی سختی سے تردید کی، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تحریک انصاف سے مصالحت کی بات کی ہے۔ ذاتی مفاد اور تشہیرکے لیے یہ ایک صحافی کی اپنی کوشش ہے۔
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برسلز میں کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ صحافی نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، ایسی خبریں گمراہ کن ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے 9 مئی کے واقعات، حالیہ سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور برسلز ایونٹ کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے نہ تو برسلز میں کسی صحافی کو انٹرویو دیا، نہ ہی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے متعلق کسی قسم کی بات کی گئی، نہ ہی معافی مانگنے کے حوالے سے کوئی بات زیر بحث آئی یہ محض جھوٹ اور پروپیگنڈا ہے۔
صحافی کی رپورٹنگ جھوٹ پر مبنی، سخت مذمت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صحافی نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، یہ رویہ غیر پیشہ ورانہ اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ایسی حرکتیں عوام میں گمراہی پھیلانے کی سازش ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے برسلز میں عوامی ایونٹ میں شرکت کی، جہاں سیکڑوں پاکستانیوں نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور تعمیری بات چیت کی، لیکن اس دوران کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا، نہ ہی کسی سیاسی جماعت یا فرد کا ذکر ہوا۔
معافی مانگنے سے قانون کا عمل نہیں رکے گا
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ’ اگر کوئی شخص یا گروہ معافی مانگتا بھی ہے، تو یہ قانون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ قانون اپنی راہ پر چلے گا اور ہر مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کو قوم کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پاک فوج نہیں بلکہ پوری ریاستِ پاکستان پر حملہ تھا۔
پروپیگنڈا کا مقصد نوجوانوں کو مایوسی میں دھکیلنا ہے
میجر جنرل احمد شریف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ایک منصوبے کے تحت مایوس کیا جا رہا ہے کہ ’ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم ایک ناکام قوم ہیں۔ یہ پروپیگنڈا ہمارے بچوں اور اگلی نسل کو مایوسی کی اندھیری گلی میں دھکیلنے کے لیے کیا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر دشمن قوتیں اپنے ملکوں کو ’شائننگ اسٹیٹ‘ اور ’وشو گرو‘ جیسے القابات دے کر ہمیں نفسیاتی جنگ کا نشانہ بنا رہی ہیں، تاکہ پاکستانی قوم اپنے اعتماد سے محروم ہو جائے۔
9 مئی کا مقدمہ پوری قوم کا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی صرف پاک فوج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مقدمہ ہے ’ ہر وہ شخص جو 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہے، اسے قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ ریاست اور ادارے اس حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتیں گے‘۔
فوجی ترجمان کے مطابق، جھوٹی خبروں، پروپیگنڈا مہمات، اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں ناقابل برداشت ہیں۔ ریاست اپنے نظریاتی اور جغرافیائی دفاع کے لیے متحد ہے اور 9 مئی کے ذمہ داران کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ عدالتوں اور قانون کے ذریعے انصاف یقینی بنایا جائے گا اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کے لیے مثبت بیانیہ فروغ دیا جائے گا۔
قانون کی بالادستی پر زور
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں جو بھی افراد ملوث پائے گئے، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ملوث افراد چاہے کسی بھی جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ معافی صرف ان لوگوں کو مل سکتی ہے جو سچ بول کر قوم کے سامنے شرمندگی کا اظہار کریں‘۔
پاکستان خطے کی تقدیر بدلنے والا ملک ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کو خطے کی تقدیر بدلنے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس کے اداروں پر تواتر سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
’نوجوانوں کو اپنی نظریاتی ریاست کی تاریخ اور میراث کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پروپیگنڈا، مایوسی اور گمراہی سے محفوظ رہ سکیں‘۔
ہندوستان کی چالیں اور پاکستان کا جواب
انہوں نے کہا کہ دشمن ملک ہندوستان کو یہ غلط فہمی تھی کہ دہشتگردانہ پراکسیز اور اندرونی سہولت کاروں کی مدد سے جب وہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو فوج کو بدنام کر سکے گا، لیکن ’ سب کچھ الٹ ہو گیا۔ پاکستان اور اس کی فوج کی طرف سے بھرپور جواب ملا، نتیجتاً نہ صرف ان کی پراکسیز بلکہ خود ہندوستان بھی عالمی سطح پر ڈس کریڈٹ ہو گیا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ کسی نے ان کو یہ غلط فہمی دی کہ اربوں ڈالر کی عسکری مشین ہونے کے باعث بھارت پاکستان کو آسانی سے شکست دے دے گا۔ کسی اور نے کہا کہ حملہ کرنا چاہیے تاکہ ایک جانب سے ہندوستان اور دوسری جانب سے اندرونی فتنۂ الخوارج اور فتنۂ الہندوستان، بیک وقت پاکستان پر حملہ آور ہوں۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دونوں محاذوں پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘۔
نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ ’ پاکستان سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے 2014 میں تمام سیاسی جماعتوں نے الیگل اسپیکٹرم ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر آج تک اس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا‘۔
غیر قانونی افغان باشندوں کی ملک بدری پر سیاست نہ کی جائے
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو افغان شہری غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں اور جرائم میں ملوث ہیں، انہیں ملک بدر کرنا ناگزیر ہے، مگر ’ جب بھی ہم انہیں نکالنے کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے ہی ملک کے چند سیاسی اور مجرمانہ کردار اس پر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں‘۔
ریاستی اداروں کی قربانیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ گورننس کے گیپس کو فوج، پولیس، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔ یہ ادارے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں‘۔