وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے، نئے مالیاتی ذرائع پیدا کرنے اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے قیام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا،اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے قیام کے لیے لائحہ عمل جلد از جلد تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
جامع روڈ میپ تیار کرنے کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پبلک ایکویٹی مارکیٹ اور پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ کے فروغ کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جا سکیں،انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے سرمایہ کاری کے لیے فنڈز دستیاب ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں۔
نجی شعبہ معاشی ترقی کا اہم ذریعہ
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کا فروغ ناگزیر ہے، پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ معیشت میں ایک مؤثر محرک کا کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ معدنیات، زراعت، لائیو اسٹاک، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے ملکی ترقی کے بنیادی محرک ہیں، ان شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پبلک ایکویٹی مارکیٹ ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
متبادل سرمایہ کاری ذرائع پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ بینکاری شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کا حجم ابھی بھی محدود ہے،اس لیے متبادل سرمایہ کاری ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ جدید مالیاتی نظام کے ذریعے کاروباری اداروں کو سرمایہ فراہم کیا جا سکتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
معیشت کو مضبوط بنانے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملکی معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔