وفاقی حکومت نے پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا اداروں، صحافیوں اور ان سے وابستہ افراد کے لیے ’’فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026‘‘ جاری کر دی ہیں، جن کے تحت رجسٹریشن، ایکریڈیٹیشن، نقل و حرکت اور ضابطہ کار سے متعلق نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ (ای پی ونگ) کی جانب سے جاری پانچ صفحات پر مشتمل گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی یا بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے تمام صحافیوں، فری لانسرز، اسٹرنگرز، فکسرز، اسپانسرز، میڈیا پروفیشنلز، میڈیا مالکان اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے ای پی ونگ میں رجسٹریشن لازمی ہوگی۔
دستاویز کے مطابق یہ گائیڈ لائنز پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا اور ویب پر مبنی تمام غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گی۔
گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم تمام صحافی، جو کسی بھی حیثیت میں غیر ملکی میڈیا کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، انہیں ای پی ونگ کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کو درخواست ای پی ونگ پورٹل کے ساتھ ساتھ قریبی پاکستانی سفارت خانے یا ہائی کمیشن کے ذریعے بھی جمع کرانا ہوگی۔
دستاویز کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے لیے سہولت کاری کرنے والی تمام کمپنیوں، پروڈکشن ہاؤسز اور اداروں کے لیے بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ صرف رجسٹریشن سے کسی شخص کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
گائیڈ لائنز کے تحت پریس ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے کے خواہش مند صحافیوں کو رجسٹریشن کے بعد مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ مستقل ایکریڈیٹیشن ایک سال کے لیے جاری کی جائے گی، جبکہ غیر ملکی دورے پر آنے والے صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے عارضی ایکریڈیٹیشن دی جا سکے گی۔
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ ای پی ونگ کا ایکریڈیٹیشن کارڈ کسی بھی شخص کو حکومت پاکستان کا سرکاری نمائندہ قرار نہیں دیتا اور نہ ہی اسے ویزا کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا، جب تک وزارت اطلاعات سفارتی ذرائع سے اس کی سفارش نہ کرے۔
گائیڈ لائنز کے مطابق رجسٹریشن کارڈ سات ورکنگ ڈیز اور ایکریڈیٹیشن کارڈ چار سے چھ ہفتوں میں جاری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ای پی ونگ ضرورت پڑنے پر اضافی معلومات یا دستاویزات بھی طلب کر سکتا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایکریڈیٹیشن کارڈ کا غلط استعمال کرے، جعلی دستاویزات جمع کرائے، تنظیم تبدیل کرنے یا اس سے علیحدگی کی بروقت اطلاع نہ دے، یا پاکستان کی خودمختاری، سلامتی، نظریے یا امن عامہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کی رجسٹریشن یا ایکریڈیٹیشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔
گائیڈ لائنز کے تحت پہلے سے رجسٹرڈ یا ایکریڈیٹڈ غیر ملکی میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی بھی شہر میں سرکاری نوعیت کی رپورٹنگ، ڈاکومنٹری، فلم یا سوشل میڈیا مواد تیار کرنے سے قبل ای پی ونگ سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم ایبٹ آباد اور مری کے نجی یا تفریحی دوروں کے لیے درخواست پر تین ورکنگ ڈیز کے اندر این او سی جاری کیا جا سکے گا۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں صرف ای پی ونگ کے جاری کردہ کیو آر کوڈ سے مزین پی وی سی ایکریڈیٹیشن کارڈز ہی قابل قبول ہوں گے۔