انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی مقررہ مدت ختم ہو گئی اور اس بار ایف بی آر کی جانب سے توسیع کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے ، وہ افراد جنہوں نے تاحال اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے، ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ نان فائلرز کو نہ صرف جرمانے بلکہ ممکنہ گرفتاری یا قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق مالی سال 2025ء کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 17.6 فیصد زیادہ شہریوں نے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے، مالی سال 30 جون 2025ء کو ختم ہونے تک تقریباً 60 لاکھ افراد نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرایا۔
اعداد و شمار کے مطابق 36 لاکھ ٹیکس دہندگان نے ریٹرنز کے ساتھ ساتھ ٹیکس ادائیگیاں بھی کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.6 فیصد زیادہ ہے۔
انفرادی طور پر شہریوں نے مجموعی طور پر 69 ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے ، مزید برآں، ایف بی آر نے 70 ہزار ایسے ٹیکس دہندگان کو ہدفی ای میلز بھی ارسال کیں جنہوں نے ابھی تک ریٹرن جمع نہیں کروایا۔
ایف بی آر کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ میں کوئی عمومی توسیع نہیں کی گئی تاہم، جن ٹیکس دہندگان کو تکنیکی یا ذاتی وجوہات کے باعث مشکلات درپیش ہوں، وہ متعلقہ فیلڈ دفاتر سے رابطہ کر کے انفرادی بنیادوں پر توسیع حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا تھا تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 30 نومبر کی جائے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ ریٹرنز کے موجودہ اعداد و شمار شام 7 بجے تک کے ہیں اب جبکہ مقررہ وقت گزر چکا ہے اور تاریخ میں توسیع نہیں کی گئی، یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ ریٹرن جمع نہ کروانے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔