قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال سنجیدگی اور تحمل کا تقاضا کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار ہو تو حکومت انہیں مکمل احترام کے ساتھ سامنے بٹھانے کے لیے تیار ہے ، سیاست اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سمیت حکومتی قیادت کئی بار یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ مذاکرات کے راستے بند نہیں کیے گئے ان کے مطابق تمام معاملات بیٹھ کر حل کیے جا سکتے ہیں، تاہم اپوزیشن کی جانب سے بار بار انکار مایوسی کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی بہتری کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک حد میں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور سیاست بعد میں آتی ہے۔ا اسپیکر نے ریاستی اداروں خصوصاً افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف کیے گئے بعض بیانات اور ٹوئٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے جن پر قوم کو فخر ہے، ان کے بارے میں منفی مہم چلانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ان کے مطابق آپ کسی ادارے یا شخصیت کو ٹارگٹ کرکے تنہا نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس طرح ریاست کمزور ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف زبان استعمال ہونا اُن کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے،ایاز صادق نے مزید کہا کہ دفاعی اداروں نے ملک کی ساکھ کو دنیا بھر میں جس سطح تک بلند کیا ہے، وہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
فوج کے جوانوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرکے قوم کو محفوظ بنایا اور ایسے ادارے پر انگلی اٹھانا شرمناک رویہ ہے انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کا احترام کیا جائے اور سیاسی اختلافات کو صرف سیاسی دائرے تک محدود رکھا جائے۔