موبائل فون سے سیٹلائٹ آلات تک، پی ٹی اے اب کیا کچھ چیک کرسکے گا

موبائل فون سے سیٹلائٹ آلات تک، پی ٹی اے اب کیا کچھ چیک کرسکے گا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، کو ٹیلی کمیونیکیشن آلات سے متعلق کمپنیوں اور اداروں کے معائنے کے لیے نئے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

نئے ٹیلی کمیونیکیشن ایکوپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 کے تحت پی ٹی اے کا مجاز افسر لائسنس یافتہ کمپنیوں، ٹیلی کام آلات بنانے والوں اور درآمد کنندگان کے دفاتر یا متعلقہ مقامات کا بغیر پیشگی اطلاع معائنہ کرسکے گا۔ معائنے کا مقصد یہ جانچنا ہوگا کہ پاکستان میں درآمد، تیار یا اسمبل کیے جانے والے ٹیلی کمیونیکیشن آلات مقررہ تکنیکی، حفاظتی اور کارکردگی کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کا نیا ماڈل، اے آئی نے انسان جیسی صلاحیت حاصل کرلی

پی ٹی اے کا مجاز افسر معائنے کے دوران متعلقہ مقام پر موجود ٹیلی کمیونیکیشن آلات کا جائزہ لے سکے گا۔ اس کے علاوہ کمپنی یا ادارے سے آلات سے متعلق ریکارڈ اور ضروری دستاویزات بھی طلب کی جاسکیں گی۔

نئے قواعد کے تحت لائسنس یافتہ کمپنیوں، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے پی ٹی اے کے معائنے میں تعاون کرنا اور مطلوبہ معلومات فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ متعلقہ اداروں کو اپنے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کا تازہ ریکارڈ کم از کم تین سال تک محفوظ رکھنا ہوگا، جسے ضرورت پڑنے پر پی ٹی اے کے معائنے یا قواعد کی پابندی جانچنے کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا صارفین کے لیے بڑی خبر، اپنی فیڈ پر خود اختیار ملنے کا امکان

کن آلات پر قواعد لاگو ہوں گے؟

نئے ضوابط کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی ایک وسیع رینج شامل ہے۔ ان میں موبائل فونز، بیس اسٹیشنز، وائرلیس سسٹمز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن آلات، آپٹیکل آلات اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

یہ قواعد ایس آر او 1110 (I) 2026 کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی دفعہ 28 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق نئے معائنے کے اختیارات کا مقصد ملک میں استعمال ہونے والے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی تکنیکی اور حفاظتی معیار کے مطابق نگرانی اور قواعد کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔

editor

Related Articles