پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی غیر قانونی بستیوں سے درآمدات اور ان سے منسلک خدمات پر برطانیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
برطانوی اقدام کی حمایت
مشترکہ اعلامیے میں برطانیہ کے اس فیصلے کو سراہا گیا جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق بعض درآمدات اور خدمات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں،آٹھوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے عملی اقدامات کرے۔
افراد کا احتساب
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں سرگرم تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کو جوابدہ بنایا جائے،ممالک نے عالمی سطح پر ایسی پالیسیوں اور اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جن کے ذریعے غیر قانونی بستیوں سے ہونے والی تجارت کی حوصلہ شکنی اور اس پر مؤثر پابندیاں عائد کی جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں :برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی، فلسطینی ریاست کو تسلیم کا باضابطہ اعلان آج کیا جائے گا
عالمی قوانین کی خلاف ورزی
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں،بیان میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیلی بستیوں سے متعلق عالمی برادری کا مؤقف واضح ہے۔
عالمی عدالت کا مؤقف
آٹھ ممالک نے عالمی عدالت انصاف کی متعلقہ رائے کا بھی حوالہ دیا، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضے اور آبادکاری سے متعلق قانونی حیثیت پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے،مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی اور آبادیاتی صورتحال تبدیل کرنے کی کوششیں فوری طور پر ختم کرے۔
غزہ فلسطین کا حصہ
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ ہے اور اس کی حیثیت کو کسی بھی صورت تبدیل نہیں کیا جاسکتا،آٹھوں ممالک نے غزہ میں جاری بحران کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
امن منصوبے پر عمل
مشترکہ بیان میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا،بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں سکیورٹی، استحکام، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جاسکے۔
آٹھ ممالک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا اور جامع امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ دو ریاستی حل ہے،اعلامیے کے مطابق آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، جس کی بنیاد 4 جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ہو۔


