چینی سائنسدانوں نے بڑا کارنامہ سرانجام دے دیا، چاند پر پانی کے چند آثار دریافت کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے چاند پر بھیجا گیا مشن “چانگ ای 5” اپنے ساتھ کچھ نادر نمونے بھی زمین پر لایا۔ چینی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فلکی سرزمین سے لائی جانے والی مٹی میں مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والا ہائیڈروکسیل اور سالماتی پانی پایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاند کی سر زمین میں شیشہ اور اس سے ٹکرانے والے سیارچوں کے سبب بنا جو کہ چاند کی مٹی میں پانی کی موجودگی کی بنیادی وجہ ہے۔ “چانگ ای 5” مشن کے دوران اکٹھے کیے جانے والے تقریباً 100 نمونوں
مزید پڑھیں:سولر پینلز مزید سستے ہو گئے
کا جائزہ لیا گیا۔ 12 ایسے ذرات کی نشاندہی کی جن میں ہائیڈروکسیل اور سالماتی پانی موجود تھا۔ چاند سے لائی گئی مٹی کے مذکورہ ذرات میں پایا جانے والا پانی متعدد ممکنہ ذرائع سے پیدا ہوا ہے۔ اس پانی کا سب سے بنیادی ذریعہ شمسی ہواؤں کی امپلانٹیشن ہے جو اس کے چاند پر موجود پانی کی تخلیق کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان انکشافات کے بعد محققین اب ارضیاتی سیاروں کے بننے کے دوران پانی کے ذرائع اور ذخیرہ کے طریقوں کو سمجھنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔


