آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دو مزید بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔ صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کی شام ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے کہ انہیں حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متحدہ عرب امارات نے ان واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا ہے تاہم ایران کی جانب سے فوری طور پر اس الزام پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو آبنائے ہرمز سے انتہائی کم تعداد میں بحری جہاز گزرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک اناج بردار جہاز ایرانی پانیوں میں داخل ہوا جبکہ ایک خالی خشک مال بردار جہاز مخالف سمت میں گزرا۔ ایک خالی مائع پٹرولیم گیس بردار جہاز بھی آبنائے کے ذریعے خلیج کی جانب بڑھتا دیکھا گیا تاہم خام تیل لے جانے والا کوئی جہاز جمعے کو اس راستے سے گزرتا نظر نہیں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو 9 تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا تھا جبکہ بدھ کو یہ تعداد صرف 5 رہی۔ اس کے مقابلے میں فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل اس آبی گزرگاہ سے روزانہ 130 سے زیادہ بحری جہاز گزرا کرتے تھے۔ بعض جہاز اپنے مواصلاتی نظام بند کرکے سفر کرسکتے ہیں جس کے باعث دستیاب اعداد و شمار مکمل صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے تاہم مجموعی آمدورفت میں نمایاں کمی واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس راستے میں خلل پیدا ہونے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے اور بحری ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رکھنے کے مؤقف نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

