راولپنڈی: جڑواں شہروں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ کئی مقامات پر پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے۔
راولپنڈی میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد( 19 فٹ ) تک بلند ہونے کے بعد انتظامیہ نے کٹاریاں اور گوالمنڈی کے علاقوں میں الرٹ جاری کردیا ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سائرن بجائے جا رہے ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
گولڑہ میں 144 ملی میٹر اور بوکرہ میں 132 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق پیر ودھائی میں 105 ملی میٹر، گوالمنڈی میں 77 ملی میٹر، شمس آباد میں 41 ملی میٹر جبکہ کچہری میں 60 ملی میٹر بارش ہوئی۔
انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
دوسری جانب لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، جہلم، سیالکوٹ اور شکرگڑھ سمیت دیگر علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی جس کے باعث کئی مقامات پر پانی سڑکوں اور گلی محلوں میں جمع ہوگیا۔
بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور بعض مقامات پر پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید بارش کے باعث مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں پانی کی سطح بھی بلند ہوگئی ہے۔ متعلقہ محکموں نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملے اور امدادی ٹیموں کو تیار رہنے کی ہدایت کردی ہے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بارش کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ندی نالوں، نشیبی علاقوں اور زیر آب سڑکوں سے دور رہیں۔