سونے کی اونچی اڑان ، عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مزید بڑھ گئیں

سونے کی اونچی اڑان ، عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مزید بڑھ گئیں

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک بار پھر آسمان پر پہنچ گئی ہے جہاں سونے کی قیمت 4 ہزار 400 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار کے باعث امریکی ڈالر دباؤ کا شکار ہوا،  ڈالر کی قدر میں کمی کے نتیجے میں عالمی خریداروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہوا جس سے قیمتی دھات کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، گزشتہ ہفتے بھی سونے کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھی تھی، جس کے بعد رواں ہفتے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہا ہے۔

امریکا میں سامنے آنے والے حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق صارفین کے اعتماد میں کمی آئی ہے، جبکہ ریٹیل سیلز بھی کم ہوئی ہیں، ان اعداد و شمار نے امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی بڑھتی قیمتوں کو بریک لگ گئی، عالمی مارکیٹ میں ہلچل

دوسری جانب ان اعداد و شمار کے بعد فوری طور پر شرح سود میں اضافے کے خدشات بھی کم ہوئے ہیں ، یہی صورتحال سونے کے لیے ایک مثبت عنصر بن سکتی ہے، کیونکہ شرح سود میں اضافے کی توقع عموماً قیمتی دھات کی طلب پر دباؤ ڈالتی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سونا سرمایہ کاروں کو سود یا کسی مقررہ منافع کی ادائیگی نہیں کرتا، ایسے میں جب شرح سود بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں تو سرمایہ کار دیگر منافع بخش اثاثوں کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

تاہم شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے، سرمایہ کار سونے کی جانب دوبارہ متوجہ ہوسکتے ہیں، جس سے اس کی طلب بڑھنے اور قیمت کو مزید سہارا ملنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکی ڈالر کی سمت، معاشی اعداد و شمار اور شرح سود سے متعلق توقعات عالمی سونے کی مارکیٹ کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔

یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سونا اب مسلسل اوپر ہی جائے گا، اگر امریکی ڈالر مضبوط ہوگیا، شرح سود بڑھانے کے امکانات دوبارہ بڑھے یا سرمایہ کار منافع لینے لگے تو سونے میں نمایاں کمی بھی آسکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق بڑے اداروں نے حالیہ مہینوں میں اپنی 2026 کی قیمتوں کی پیش گوئیاں بھی کم کی ہیں۔

editor

Related Articles