ہوابازی کی دنیا میں برقی یا الیکٹرک طیاروں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دنیا کے سب سے بڑے بیٹری الیکٹرک طیارے نے پہلی بار کامیاب پرواز مکمل کرلی ۔
ہارٹ ایئرو اسپیس (Heart Aerospace) کے تیار کردہ X1 ڈیمونسٹریٹر نے امریکا کے پلاٹسبرگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی بار فضا میں پرواز کی ، کمپنی کے مطابق یہ پرواز مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والے بڑے طیاروں کی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر جانچنے کی جانب اہم قدم ہے۔
27 منٹ کی پرواز
ایکس ون کی پہلی آزمائشی پرواز 27 منٹ تک جاری رہی جس کے دوران طیارہ زمین سے تقریباً 1,100 فٹ کی بلندی تک پہنچا ، پرواز کے دوران طیارے کے مکمل برقی نظام نے ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت فراہم کی، آزمائش میں ٹیکسی، ٹیک آف، بلندی حاصل کرنا، مختلف انداز میں طیارے کو موڑنا اور لینڈنگ سمیت کئی اہم مراحل شامل تھے۔
Heart Aerospace نے یہ آزمائشی پرواز امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ( کے Special Airworthiness Certificate کے تحت Experimental Category میں کی۔
کمپنی کا مقصد صرف طیارے کو اڑانا نہیں تھا بلکہ یہ ثابت کرنا بھی تھا کہ بیٹری سے چلنے والی پرواز کو ایسے سائز تک لے جایا جاسکتا ہے جو کمرشل ایئرلائنز کے طیاروں کے نسبتاً قریب ہو۔
طیارے کا حجم
اس طیارے کا حجم اسے دیگر طیاروں سے نمایاں کرتا ہے ، اس کے پروں کا پھیلاؤ 106 فٹ، یعنی تقریباً 32 میٹر ہے، جبکہ ناک سے دم تک اس کی لمبائی 76 فٹ یا تقریباً 23 میٹر بنتی ہے ، پرواز کے وقت اس طیارے کا وزن 25 ہزار پاؤنڈ، یعنی تقریباً 11,300 کلوگرام سے زیادہ تھا۔
ہارٹ ایروسپیس نے اس تاریخی پرواز کی ویڈیو بھی ایکس پر شیئر کی، جس کے بعد برقی ہوا بازی میں دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ ایک بار پھر اس ٹیکنالوجی کی طرف مرکوز ہوگئی۔
پوری پرواز کی بجلی صرف 5 ڈالر؟
اس تجربے کا ایک دلچسپ پہلو بجلی کا خرچ بھی تھا ، ایرواسپیس کمپنی کے مطابق پوری آزمائشی پرواز کے دوران تقریباً 5 ڈالر کی بجلی استعمال ہوئی، تاہم اس رقم کو کمرشل پرواز کی مکمل لاگت سمجھنا درست نہیں ہوگا ، اس میں عملے کی تنخواہیں، طیارے کی دیکھ بھال، ایئرپورٹ چارجز اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔
یعنی 5 ڈالر کا اعداد و شمار صرف آزمائشی پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت کو ظاہر کرتا ہے۔
X1 کے بعد اصل ہدف ES-30
X1 خود مسافر طیارے کے طور پر کمرشل سروس میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں کیا گیا، اس کا بنیادی مقصد Heart Aerospace کے مستقبل کے ای ایس 30 منصوبے کے لیے ٹیکنالوجی کو جانچنا اور بہتر بنانا ہے۔
ES-30 ایک 30 نشستوں والا علاقائی طیارہ ہوگا، تاہم یہ X1 کی طرح مکمل طور پر بیٹری سے نہیں چلے گا۔ کمپنی اس کے لیے ہائبرڈ الیکٹرک پروپلشن سسٹم استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
Heart Aerospace کے مطابق ES-30 کی مکمل برقی رینج 200 کلومیٹر جبکہ ہائبرڈ موڈ میں رینج 800 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔ کمپنی تقریباً 30 منٹ میں چارجنگ کا ہدف بھی رکھتی ہے۔
2031 میں کمرشل سروس کا ہدف
ہارٹ ایرو سپیس کمپنی کے منصوبے کے مطابق ای ایس 30 کے پہلے پری پروڈکشن طیارے کی فلائٹ ٹیسٹنگ 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے، اس کے بعد کمپنی 2031 میں طیارے کی سرٹیفکیشن مکمل کرکے اسے کمرشل سروس میں لانے کا ہدف رکھتی ہے۔
یونائیٹڈ ایر لائنز ، ایئر کینیڈا اور جے ایس ایکس سمیت کئی ایئرلائنز پہلے ہی اس پروگرام میں دلچسپی کا اظہار کرچکی ہیں۔
ایکس ون کی پہلی پرواز اس منصوبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ضرور ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت ہوگا جب برقی اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو باقاعدہ مسافر پروازوں کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد ثابت کیا جائے گا۔