وزارتِ مذہبی امور نے حج 2027 کے لیے درخواستیں وصول کرنے کی تاریخ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے عمل کا آغاز 17 اگست کے بجائے 18 اگست سے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
درخواستیں اور رقوم حبیب بینک کی شاخوں کے ذریعے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی، جبکہ کل کوٹہ 179,210 عازمین پر مشتمل ہوگا۔
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے ذرائع کے مطابق حج 2027 کے لیے کاغذات اور واجبات کی وصولی کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حج 2027 میں بڑی سہولت، 4 لاکھ عازمین گھر بیٹھے درخواست و ادائیگی کر سکیں گے
اب یہ عمل 18 اگست سے شروع ہوگا۔ ملک بھر میں نامزد حبیب بینک کی شاخوں کے ذریعے درخواستیں لی جائیں گی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مقررہ کوٹہ مکمل نہیں ہو جاتا۔
حکام کا کہنا ہے کہ شفافیت اور فوری عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد کو ترجیح دی گئی ہے۔
حج کوٹہ کی تقسیم، سرکاری اور نجی اسکیمیں
آئندہ سال کے لیے پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ 179,210 عازمین پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کوٹے کو منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کیا گیا ہے:
سرکاری حج اسکیم، اس کے لیے کل کوٹے کا 60 فیصد یعنی 107,526 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
نجی حج اسکیم، اس کے لیے 40 فیصد یعنی 71,684 نشستیں رکھی گئی ہیں۔
اخراجات کی ادائیگی کا نیا طریقہ کار
عازمینِ حج کی مالی آسانی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ حج کے کل اخراجات دو مساوی اقساط میں وصول کیے جائیں گے۔ ضابطے کے مطابق، عازمین کو اپنی درخواستیں جمع کراتے وقت کل واجب الادا رقم کا آدھا حصہ ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) ہولڈرز کے لیے تاریخی موقع
حج تاریخ میں پہلی بار پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) ہولڈرز کو بھی 2027 کے حج کوٹے میں شامل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس نئے اور انقلابی انتظام کے تحت مجموعی کوٹے کا 1 فیصد یعنی 1,792 نشستیں پی او سی ہولڈرز کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔
یہ خوش نصیب عازمین سرکاری اور نجی دونوں اسکیموں کے ذریعے درخواست دینے کے اہل ہوں گے، تاہم ان کا یہ عمل سعودی عرب کی ویزا شرائط اور کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی پابندیوں سے مشروط ہوگا۔
ہر سال پاکستان سے لاکھوں فرزندانِ توحید فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس سرزمین کا رخ کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور سعودی وزارتِ حج کے درمیان ہونے والے دو طرفہ معاہدوں کے تحت ہر ملک کا کوٹہ طے کیا جاتا ہے۔
ماضی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نژاد افراد کو اس طرح براہِ راست کوٹے میں مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا، لیکن اب پی او سی ہولڈرز کو شامل کر کے ایک خوش آئند قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں پھیلے پاکستانیوں کو بھی اس بابسعادت سفر میں آسانی ہو۔
پالیسی کے مثبت اثرات اور مستقبل کے چیلنجز
وزارتِ مذہبی امور کا یہ تازہ فیصلہ انتظامی لحاظ سے دور رس نتائج کا حامل ہے۔ تاریخ میں ایک روز کی تبدیلی اور ‘پہلے آئیے، پہلے پائیے’ کی شرط سے عازمین میں ایک صحت مند مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، جو درخواستوں کی بروقت تیاری میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس کے علاوہ اخراجات کو دو اقساط میں تقسیم کرنے کا اقدام عام آدمی کے لیے مالی دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
پی او سی ہولڈرز کو کوٹے میں شامل کرنا سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ رابطے کو مزید مضبوط کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔
البتہ، بینکوں میں رش اور کوٹہ جلد پُر ہو جانے کی صورت میں عام شہریوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزارت کو سخت نگرانی اور شفافیت کا نظام یقینی بنانا ہوگا۔