سینئر سیاستدان فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فضل الرحمان اور ان کا پورا گروپ اس وقت ان کے چینل ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ کے پیچھے پڑا ہوا ہے، کیونکہ ان کا چینل مولانا فضل الرحمان کی معاشی، اخلاقی، انتظامی اور قومی و بین الاقوامی سیاست سے متعلق تمام دو نمبریاں اور چکربازیاں بے نقاب کر رہا ہے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے منشی، خصوصاً کامران مرتضیٰ جیسے لوگ ان کے چینل کو ’’کالا چینل‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چینل کی سب سے بڑی ڈسٹنکشن اور فالٹ ان کی نظر میں یہی ہے کہ یہ مولانا فضل الرحمان کے کالے کرتوت، کالے گناہ اور کالی بدکرداریاں عوام کے سامنے بے نقاب کرتا ہے، جو آج تک کوئی نہیں کرسکا۔
انہوں نے روایتی ٹی وی چینلز کے اینکرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دوسرے چینلز کے اینکرز اپنے پروگراموں اور ٹویٹس میں فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں کو بڑا زیرک، فقیہہ اور سمجھدار قرار دے کر بانس پر چڑھاتے رہے ہیں، لیکن ان کا چینل مولانا فضل الرحمان کی شخصیت اور ان کے اندر کے انسان کو اے ٹو زی عوام کے سامنے لا رہا ہے۔
دارالعلوم دیوبند اور بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جس حریتِ فکر اور دیوبند کی فکر کے علمبردار ہیں، اس کا حال بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے جس حلقے میں دارالعلوم دیوبند واقع ہے، وہاں 70 فیصد مسلمان ہیں، لیکن انتخابات میں بی جے پی کا ہندو امیدوار پریجیش سنگھ کامیاب ہوا جبکہ دیوبند کے نمائندے کو صرف تین ہزار ووٹ ملے۔
انہوں نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے سامنے کھڑے ہوکر اسی بھارتی ایم ایل اے نے کہا کہ یہ ’’دیوبند نہیں دیورند ہے‘‘۔ اسی بھارت میں مدرسے کے طلبہ کو بسوں سے اتار کر قطار میں کھڑا کیا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی، لیکن کیا وہاں مولانا فضل الرحمان یا ان کے حامیوں نے کبھی یہ کہا کہ ریاست کون ہوتی ہے؟
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ حسین مدنی صاحب کے بیٹے جو آج کل جمعیت علمائے ہند کے سربراہ ہیں اور جن کے ذریعے مولانا فضل الرحمان اجیت دوول اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ بھارتی ریاست کے سامنے کھڑے ہوکر اسے للکاریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں ہندوتوا کی سیاست کے مقابلے میں ان کی کوئی اوقات اور سیاسی گنجائش نہیں ہے۔
فضل الرحمان کے خاندان کی پچاس سالہ خاندانی اجارہ داری
سینئر سیاستدان نے مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کی سیاسی حیثیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچاس سال سے مولانا فضل الرحمان اور ان کے والد اقتدار میں رہے ہیں۔ وزارتِ اعلیٰ، قائد حزب اختلاف، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ اور پی ڈی ایم کی چیئرمین شپ سمیت اہم عہدے ان کے خاندان کے پاس رہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے تین بھائی ایم این اے، دونوں بیٹے ایم این اے جبکہ ان کے سمدھی، داماد اور دیگر رشتہ دار بھی ایم این اے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے مکانوں سے اٹھ کر کھرب پتی بننے کا یہ سفر اور ہر چیز کی کھلی لوٹ مار کے بعد جب آپ یہ کہیں گے کہ ریاست پر تھو، تو ریاست بھی آپ کا کچا چٹھا اور حساب کتاب کھولے گی اور پوچھے گی کہ کس منہ سے آپ نے ریاست پر یہ غلیظ تھوک نکالا ہے۔
بلیک میلنگ اور دباؤ کی سیاست ختم
فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اب ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی بلیک میلنگ، بدمعاشی اور سیاست کا خاتمہ کرنا ہے۔ مدرسے کے بچوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اخلاقی، معاشی اور سیاسی میدان میں گناہ کرنے کا دور اب ختم، فنش، خلاص اور بالخیر ہوچکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کامران مرتضیٰ، فضل الرحمان کے بیٹے اسد الرحمان اور دیگر افراد کو این سی سی آئی کے نوٹسز جاری ہوچکے ہیں اور اب ان سب کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں۔
جی سکس اسلام آباد کا مکان گمنامی جائیداد
فیاض الحسن چوہان نے اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں امان اللہ کے نام پر موجود ایک مکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے بتایا تھا کہ یہ مکان کرپشن کے پیسوں سے خریدا گیا، جس کے بعد امان اللہ کا کہنا ہے کہ ان کا اس مکان سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ بے نامی نہیں بلکہ ’’گمنامی جائیداد‘‘ کا نیا شاہکار ہے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور ان کا خاندان ایسی گمنامی جائیدادوں پر کھیل رہا ہے، جو کرپشن کی سپرلیٹو ڈگری اور ڈھٹائی ہے۔
سینئر سیاستدان نے کہا کہ ان کے چینل کے مالک مصور عباسی اور ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کی جانب سے جان سے مارنے کی براہ راست دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مصور عباسی اس معاملے پر عدالت اور این سی سی آئی سے بھی رجوع کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب فضل الرحمان، عبید الرحمان، لطف الرحمان، عطاء الرحمان اور اسد الرحمان سب کے ہوش اڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ 100، 200 یا 400 مولوی اور مدرسے کے بچے اکٹھے کرکے بلند آواز میں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ شاید ریاست دبک جائے گی، منتوں پر اتر آئے گی یا ان کے پاؤں پڑ جائے گی، لیکن اب کی بار ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
سینیٹ انتخابات میں کروڑوں روپے کی خرید و فروخت
فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2002 کے بعد سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے تمام سینیٹ انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام کے تمام ایم پی ایز چار کروڑ سے آٹھ کروڑ روپے تک میں بکتے رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ایک مشہور فیملی، جس میں گلزار محمد خان، وقار محمد احمد خان اور گلزار فیملی شامل ہے، ہر مرتبہ ان ارکان کے ووٹ خریدتی تھی۔ ان کے مطابق یہ تمام ارکان مولانا فضل الرحمان کی اپنی مرضی اور منشا سے بکتے تھے اور اس رقم میں سے اپنا پراپر حصہ پہلے مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کو جاتا تھا۔
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا خاندان پہلے اپنا حصہ وصول کرتا تھا اور اس کے بعد اپنے ایم پی ایز کو بھی اجازت دیتا تھا کہ وہ اپنا اپنا حصہ لے لیں۔ ان کے بقول دکھاوے کے لیے 15 سے 20 روز انکوائری کمیٹی کا ڈراما رچایا جاتا تھا اور بعدازاں سب کو معافی مل جاتی تھی۔
انہوں نےکہا کہ ہر سینیٹ انتخابات میں اربوں روپے کی یہ دہاڑی لگائی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقاتی ادارے اس معاملے کی جانچ پڑتال کریں تو سارا مکروہ کردار سامنے آجائے گا۔