امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے باعث جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے ان کا مواخذہ کیا تو ان کی اپنی جماعت سیاسی طور پر تباہ ہو جائے گی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ری پبلکنز اپنی مقبولیت کو انتخابی امیدواروں کی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے بقول اگر وہ خود انتخابی میدان میں ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے اور ان کی جماعت کامیابی حاصل کر سکتی تھی۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے ساتھ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ مستقبل میں سیاسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ قاتلوں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایران جنگ ری پبلکنز کو مہنگی پڑ گئی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مڈٹرم انتخابات میں پارٹی کی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران جنگ کے سیاسی اثرات نے ری پبلکنز کو شدید نقصان پہنچایا اور سینیٹ میں جماعت کو اپنے سیاسی موقف کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی انتخابی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ کو قرار دیا ہے۔
نائب صدر نے انتخابی نتائج کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکست نے پارٹی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی انتخابی ناکامی کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
ٹرمپ کے سابق حامیوں کی ناراضی بڑا مسئلہ
جے ڈی وینس نے کہا کہ انتخابی شکست کی ذمہ داری صرف ووٹرز کے کم ٹرن آؤٹ پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعض سابق حامی بھی پارٹی سے ناراض ہو گئے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد ری پبلکن قیادت کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ پارٹی کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ اپنے حامیوں کا اعتماد کیوں برقرار نہیں رکھ سکی۔
انتخابی ناکامی کے بعد ری پبلکن پارٹی کے اندر پالیسیوں، ایران جنگ اور اسرائیل سے تعلقات پر نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔ ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق دھمکی نے بھی امریکی سیاست میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔