وفاقی دارالحکومت کے حساس ریڈ زون میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ سامنے آگیا۔ وفاقی کابینہ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے مختص قیمتی سرکاری اراضی کو مبینہ طور پر اصل مقصد سے ہٹا کر لگژری اپارٹمنٹس کی فروخت کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس عمل میں قواعد کی خلاف ورزی، بولی کے طریقہ کار میں مبینہ ہیرا پھیری اور سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حکومتی فیصلوں کے مطابق منصوبے کو دوبارہ اصل مقصد یعنی فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے اور شفاف نیلامی کے ذریعے نئے ڈویلپر کو دینے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔ معاملے کی مزید مالیاتی اور فوجداری تحقیقات نیب کے سپرد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
13.5 ایکڑ قیمتی اراضی کا معاملہ
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی تھی۔ سی ڈی اے نے 13.5 ایکڑ قیمتی اراضی تقریباً 4 ارب 88 کروڑ روپے میں بی این پی گروپ کو الاٹ کی تھی۔
معاہدے کے تحت یہاں عالمی معیار کا فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیا جانا تھا۔ زمین کی قیمت 15 سالہ اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی تھی۔
تاہم جے آئی ٹی کے مطابق منصوبے میں بعد ازاں بنیادی شرائط تبدیل کی گئیں۔ ہوٹل کی جگہ رہائشی اپارٹمنٹس اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بولی کے عمل میں مبینہ ہیرا پھیری اور ڈویلپر کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد میں نرمی کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بینک گارنٹی کی شرط ختم کرنے کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ بنا۔
قومی خزانے کو 17.5 ارب روپے کا نقصان؟
اس منصوبے کے مالی معاملات بھی طویل عرصے سے تنازع کا شکار رہے ہیں۔ 2019 میں سپریم کورٹ نے کمپنی کو تقریباً 17 ارب 50 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
حکام کے مطابق کمپنی اب تک تقریباً 2 ارب 90 کروڑ روپے جمع کرا سکی ہے۔ دوسری جانب اپارٹمنٹس کی فروخت سے بھاری رقوم وصول کیے جانے کا معاملہ بھی رپورٹ میں زیر بحث آیا ہے۔
جے آئی ٹی نے ڈویلپر اور متعلقہ سرکاری حکام کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ اسکینڈل کا مرکزی کردار قرار دیے جانے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔
بی این پی گروپ کے خلاف کارروائی
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بی این پی گروپ کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں سے بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
معاملے کو قومی احتساب بیورو کے سپرد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ جرائم کی مزید تحقیقات ہوسکیں۔
حکومت نے منصوبے کو دوبارہ شفاف نیلامی کے ذریعے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمارت کو اس کے ابتدائی مقصد کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔
اپارٹمنٹ خریداروں کو رقم واپسی کی یقین دہانی
اس اسکینڈل میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے مستقبل سے متعلق بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق حقیقی خریداروں کو ڈویلپر اور سرکاری حکام کی مبینہ بے ضابطگیوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا۔ متاثرہ افراد کو ان کی اصل سرمایہ کاری واپس کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رقوم کی واپسی میں بینک شرح سود سے زائد منافع کی ادائیگی کا طریقہ بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان سرمایہ کاروں کے مالی نقصان کا ازالہ کرنا ہے جنہوں نے اپنی جمع پونجی اس منصوبے میں لگائی تھی۔
حکومت نے اس منصوبے کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو آئندہ اقدامات کا حصہ بنایا ہے۔
یوں اسلام آباد کے اہم ترین مقام پر واقع یہ منصوبہ ایک بار پھر سرکاری نگرانی میں آگیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کس انجام تک پہنچتی ہیں اور متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی رقم کب واپس ملتی ہے۔
