مشیر گورنر خیبرپختونخوا برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف اور اس کے ماتحت اداروں کی سرکاری گاڑیوں کے ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ 13 سال کے دوران غائب اور ناقابلِ سراغ ہونے والی تمام سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو 72 گھنٹوں میں گاڑیاں واپس پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ گزشتہ 13 سال کے دوران محکمے اور اس کے ماتحت اداروں کے زیرِ استعمال رہنے والی تمام سرکاری گاڑیوں کا مکمل اور جامع ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ اس ریکارڈ میں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر، کمپنی، ماڈل اور دیگر ضروری تفصیلات شامل کی جائیں تاکہ سرکاری اثاثوں کی موجودہ صورتحال کا درست تعین کیا جاسکے۔
سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے والے افسران کی تفصیلات بھی طلب
مشیر گورنر نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے والے تمام افسران اور اہلکاروں کے نام، عہدے اور ان کے زیرِ استعمال گاڑیوں کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ گزشتہ 13 سال کے دوران جو گاڑیاں غائب ہوئیں یا جن کا محکمانہ ریکارڈ دستیاب نہیں، ان کی الگ فہرست تیار کرکے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مسنگ اور ناقابلِ سراغ گاڑیوں کے معاملے میں ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کا تعین کرکے انہیں باقاعدہ نوٹسز جاری کیے جائیں اور سرکاری گاڑیوں کی واپسی یقینی بنائی جائے۔
72 گھنٹے کی مہلت، پانچ روز میں مکمل رپورٹ طلب
ثمر ہارون بلور نے دوٹوک ہدایت کی ہے کہ متعلقہ افسران اور اہلکار 72 گھنٹوں کے اندر اپنے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیاں واپس پیش کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے محکمہ ریلیف کو مزید ہدایت کی کہ تمام دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال، تصدیق اور ضروری چھان بین مکمل کرکے پانچ روز کے اندر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ رپورٹ میں غائب گاڑیوں کی تعداد، ان کے استعمال سے متعلق تفصیلات اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی بھی شامل ہونی چاہیے تاکہ معاملے کی مکمل تصویر سامنے آسکے۔
سرکاری گاڑیاں عوام کی امانت ہیں، غفلت برداشت نہیں ہوگی
مشیر گورنر نے کہا کہ سرکاری گاڑیاں اور دیگر وسائل عوام کی امانت ہیں، ان کے تحفظ اور درست استعمال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری اثاثوں کے ریکارڈ میں شفافیت، جوابدہی اور بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کا تعین حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال، غفلت اور مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ محکمہ ریلیف کے تمام متعلقہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری گاڑیوں کا ریکارڈ مکمل، درست اور قابلِ تصدیق ہو۔
ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ سرکاری گاڑیوں کے ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں تمام تفصیلات فراہم کرکے جوابدہی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔