امریکی انتخابات میں مسلمان امیدوار عبدل السید نے کامیابی حاصل کرکے امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست اپنے نام کرلی۔ کامیابی کے بعد عبدل السید نے کہا ہے کہ ان کے نام اور مذہب کو انتخابی ایشو بنانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں اور ووٹرز نے تقسیم کی سیاست کو مسترد کردیا۔
انتخابی کامیابی کے بعد اپنے حامیوں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عبدل السید نے کہا کہ انہیں عوام کی خدمت کے لیے واشنگٹن بھیجنے پر وہ ووٹرز کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران ریپبلکنز نے سب سے پہلے ان کے نام اور مذہب کو متنازع بنانے کی کوشش کی، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔
الیکشن کے بعد خطاب میں عبدل السید نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران مخالفین نے ان کے نام اور مذہب کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے باوجود عوام نے انہیں اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج نے ثابت کردیا کہ مذہب اور شناخت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سیاست کامیاب نہیں ہوسکتی۔
ہواشنگٹن میں اقتدار کی جنگ اور مڈٹرم الیکشن، امریکی عوام کا حتمی فیصلہ پولنگ باکس میں بند ہو نا شروع
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتخاب سے پہلے وہ ان شاء اللہ کہتے تھے اور اب کامیابی کے بعد الحمدللہ کہہ رہے ہیں۔ ہم نے ان سیاست دانوں کو شکست دی ہے جو امریکی معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے تھے۔
انتخابی مہم پر بھاری اخراجات
عبدالسید نے دعویٰ کیا کہ مشی گن میں انہیں شکست دینے کے لیے تقریباً 7 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے، تاہم عوام نے مالی وسائل کے بجائے ان کے مؤقف اور انتخابی پیغام پر اعتماد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیسے اور سچائی کی جنگ میں بالآخر سچائی کی فتح ہوتی ہے۔
نومنتخب سینیٹر نے اپنی کامیابی کو تمام امریکی شہریوں کے لیے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کی کامیابی ہے جو ایک ایسے امریکا پر یقین رکھتے ہیں جہاں ہر مذہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو برابر کے مواقع حاصل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اتنا وسیع ملک ہے کہ یہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور شناختوں کے حامل تمام لوگ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ ریپبلکنز اس تصور کے خلاف ہیں کہ امریکا سب کا ملک ہے، لیکن انتخابی نتائج نے واضح کردیا ہے کہ امریکی معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی گنجائش موجود ہے۔
عبدالسید کی کامیابی کے ساتھ امریکی سینیٹ میں پہلی مرتبہ کسی مسلمان کی منتخب رکن کی حیثیت سے آمد ہوگی۔ وہ مشی گن سے منتخب ہوئے ہیں اور ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی ہے۔