جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مبینہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق بینش سلیم نے سنگین دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی قد کاٹھ کا لحاظ کرتے ہوئے بعض معاملات کو منظرعام پر آنے سے روکا گیا، تاہم اب لیبیا سے مبینہ طور پر آنے والی رقوم کے بارے میں انہیں وضاحت اور رسیدیں پیش کرنا ہوں گی۔
بینش سلیم نے ثمر ہارون بلور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک ایسے مدرسے یا مرکز کی فنڈنگ لیبیا سے ہوئی جس کے مبینہ روابط مولانا فضل الرحمان سے ملتے ہیں۔ ان کے بقول یہ فنڈنگ غیر قانونی طریقے سے کی گئی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب مبینہ غیر قانونی فنڈنگ کا معاملہ سامنے آیا تو اس وقت کی فوج کی ایک انتہائی اعلیٰ شخصیت کو مداخلت کرنا پڑی۔ بینش سلیم کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مقام اور قد کاٹھ کا لحاظ کرتے ہوئے اس معاملے کو منظرعام پر آنے سے روکا گیا۔
بینش سلیم نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی عزت اور سیاسی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ماضی میں بہت سے معاملات کو نظرانداز کیا گیا، لیکن ان کے بقول مولانا کی موجودہ زبان اور طرزعمل کے بعد ایسے معاملات کو مزید چھپانا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی حیثیت اور سمجھ بوجھ سے بڑھ کر بات کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی میں چھپائے گئے معاملات کی پرتیں کھولی جائیں۔
بینش سلیم نے سوال اٹھایا کہ اگر لیبیا سے ڈالرز آئے تھے تو وہ کس طریقے سے پاکستان پہنچے اور ان رقوم کی رسیدیں کہاں ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا انہیں یا کسی دوسرے شخص کو جواب نہ دیں، لیکن کم از کم ثمر ہارون بلور اور گورنر خیبرپختونخوا کے سامنے ان معاملات کی وضاحت ضرور کریں۔
