حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جائیداد کے شعبے کے لیے بڑی ریلیف دینے پر غور شروع کر دیا ہے ، اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو ملک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں نئی سرگرمی اور سرمایہ کاری کا آغاز ہو سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان تجاویز میں پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی سفارش کی گئی ہے، اس اقدام کا مقصد رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دوبارہ فعال کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے ، اسی طرح جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی بھی سفارش شامل ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی سے پراپرٹی سیکٹر میں سست روی کم ہو سکتی ہے اور مارکیٹ میں دوبارہ سرگرمی بڑھنے کی توقع ہے ، جب لین دین میں اضافہ ہوگا تو تعمیراتی شعبے سمیت دیگر متعلقہ صنعتوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
تاہم اس معاملے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف ان ٹیکس کمی کی تجاویز پر کچھ تحفظات رکھتا ہے اور حتمی فیصلہ مذاکرات کے بعد ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بجٹ میں مجوزہ ریلیف اقدامات متعارف کراتی ہے تو اس سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اب تمام نظریں بجٹ 2026-27 پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ حکومت پراپرٹی سیکٹر کی بحالی کے لیے کتنے بڑے اقدامات کا اعلان کرتی ہے۔