بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں امتحانی پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج ختم کرکے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔
سلمان خان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ طلبہ کی تعلیم اور سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پہلے ہی اس معاملے پر اپنا مؤقف سامنے لا چکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پرچہ لیک کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اداکار نے طلبہ سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ سلمان خان نے سماجی کارکن سونم وانگچک سے بھی احتجاج مزید نہ بڑھانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں ضرورت محسوس ہوئی تو دوبارہ آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے اور کھانا کھانے کی اپیل کی، ساتھ ہی اپنے گھر سے کھانا بھجوانے کی پیشکش بھی کی۔دوسری جانب بالی ووڈ اداکارہ اننیا پانڈے اور سارہ علی خان نے امتحانی پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔
اننیا پانڈے نے کہا کہ نئی نسل ناانصافی کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور طلبہ کسی رعایت کے نہیں بلکہ انصاف کے طلبگار ہیں۔ ادھر سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں، ان کے حوصلے اور عزم کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کرے گی۔