پاکستان میں پنشن کا نیا فارمولا سامنے آگیا، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

پاکستان میں پنشن کا نیا فارمولا سامنے آگیا، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

پاکستان میں وفاقی حکومت نے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے شراکتی پنشن نظام کے نفاذ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے 16 منظور شدہ پنشن فنڈ مینیجرز کی فہرست جاری کر دی ہے۔

نئے نظام کے تحت ملازم اور حکومت دونوں ہر ماہ پنشن فنڈ میں شراکت کریں گے، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کا انحصار جمع شدہ سرمایہ اور اس سے حاصل ہونے والے منافع پر ہوگا۔

شراکتی پنشن نظام کے نفاذ کی جانب اہم پیش رفت

وفاقی حکومت نے ‘ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم-2024’ پر عملدرآمد کے لیے 16 اہل پنشن فنڈ مینیجرز کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فوت شدہ سرکاری ملازم کی پنشن اور مراحات کس کو ملیں گی؟، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنا دیا

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام منظور شدہ پنشن فنڈ مینیجرز نے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد وہ نئے پنشن نظام کے تحت ملازمین کی پنشن شراکتوں کے انتظام اور سرمایہ کاری کے مجاز ہوں گے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام وفاقی ملازمین کے لیے شراکتی پنشن نظام کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے پنشن کے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئے گی۔

نیا پنشن نظام کیسے کام کرے گا؟

‘فیڈرل گورنمنٹ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024’ کے تحت نئے بھرتی ہونے والے وفاقی ملازمین کے لیے روایتی پنشن نظام کی جگہ شراکتی پنشن ماڈل نافذ کیا جا رہا ہے۔

اس نظام کے مطابق ہر ملازم اپنی قابلِ پنشن تنخواہ کا 10 فیصد ہر ماہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گا، جبکہ وفاقی حکومت اسی ملازم کی قابلِ پنشن تنخواہ کا 12 فیصد بطور شراکت فنڈ میں جمع کرے گی۔

یوں ہر ملازم کے نام پر ایک الگ پنشن فنڈ تشکیل پائے گا، جس میں باقاعدگی سے رقم جمع ہوتی رہے گی۔

سرمایہ کاری سے پنشن میں اضافہ کیسے ہوگا؟

نئے نظام کے تحت جمع ہونے والی رقم صرف محفوظ نہیں رکھی جائے گی بلکہ اسے مختلف منظور شدہ سرمایہ کاری منصوبوں میں لگایا جائے گا تاکہ اس پر منافع حاصل ہو سکے۔

ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو ملنے والی پنشن کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دورانِ ملازمت اس کے فنڈ میں کتنی رقم جمع ہوئی اور سرمایہ کاری سے کتنا منافع حاصل ہوا۔

مزید پڑھیں:وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

اس طرح پنشن کا حجم صرف ملازمت کی مدت ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی مجموعی کارکردگی سے بھی منسلک ہوگا۔

حکومت کا مقصد کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق شراکتی پنشن نظام متعارف کرانے کا بنیادی مقصد مستقبل میں پنشن کی بڑھتی ہوئی مالی ذمہ داریوں کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

اس ماڈل میں حکومت اور ملازم دونوں مالی ذمہ داری میں شریک ہوتے ہیں، جس سے قومی خزانے پر طویل المدتی دباؤ نسبتاً کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منظور شدہ پنشن فنڈ مینیجرز کے انتخاب کا مقصد فنڈز کا شفاف، محفوظ اور پیشہ ورانہ انداز میں انتظام یقینی بنانا ہے تاکہ ملازمین کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔

گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومت پنشن اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث پنشن اصلاحات پر غور کر رہی تھی۔

روایتی پنشن نظام میں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی مکمل ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے، جس کے باعث ہر سال سرکاری خزانے پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا رہا۔

اسی تناظر میں ‘فیڈرل گورنمنٹ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024’ متعارف کرائے گئے، جن کے تحت نئے وفاقی ملازمین کو شراکتی پنشن نظام میں شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ پنشنرز اور سابقہ قواعد کے تحت ریٹائر ہونے والے ملازمین کے حقوق الگ قانونی دائرہ کار کے مطابق برقرار رہیں گے۔

شراکتی پنشن نظام پاکستان کے سرکاری مالیاتی ڈھانچے میں ایک بڑی اصلاح تصور کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل سے حکومت کو مستقبل میں پنشن واجبات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ ملازمین کے لیے بھی ایک ایسا سرمایہ کاری پر مبنی فنڈ تشکیل پائے گا جس کی مالیت وقت کے ساتھ بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار منظور شدہ پنشن فنڈ مینیجرز کی شفاف کارکردگی، مؤثر نگرانی، سرمایہ کاری کے محفوظ فیصلوں اور مناسب منافع پر ہوگا۔

اگر فنڈز کا انتظام پیشہ ورانہ معیار کے مطابق کیا گیا تو یہ ماڈل نہ صرف پنشن نظام کو زیادہ پائیدار بنا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے وفاقی ملازمین کو مالی تحفظ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

Related Articles