بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، بجلی بل جمع کرانے کا نیا طریقہ متعارف

بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، بجلی بل جمع کرانے کا نیا طریقہ متعارف

کے الیکٹرک نے اپنے لاکھوں صارفین کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے کیش فری ادائیگی کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت صارفین اب منتخب کسٹمر کیئر سینٹرز پر نصب پوائنٹ آف سیل (POS) مشینوں کے ذریعے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہوئے اپنے بجلی کے بل فوری طور پر ادا کر سکیں گے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس نئی سہولت کا مقصد صارفین کا وقت بچانا ادائیگی کے عمل کو مزید آسان بنانا اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اب صارفین کو بل جمع کرانے کے لیے نقد رقم ساتھ رکھنے یا بینکوں اور دیگر ادائیگی مراکز پر طویل قطاروں میں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ چند منٹوں میں اپنے بل کی ادائیگی مکمل کر سکیں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئی سہولت کے تحت پے پاک ، ماسٹر کارڈ ، ویزا کارڈ  اور یونین پے  سمیت مختلف مقامی اور بین الاقوامی ادائیگی کارڈز قبول کیے جائیں گے جس سے زیادہ سے زیادہ صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کب آئے گا؟ حکومت نے صارفین کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا

کے الیکٹرک انتظامیہ کے مطابق پی او ایس مشینوں کے ذریعے بلوں کی ادائیگی نہ صرف تیز رفتار اور محفوظ ہوگی بلکہ اس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ ملے گا شفافیت میں اضافہ ہوگا اور صارفین کو جدید بینکاری سہولتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صارفین کو بہتر اور جدید خدمات فراہم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ مستقبل میں بھی ڈیجیٹل سروسز کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی سمیت دیگر خدمات کو زیادہ آسان، محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے زبردست خوشخبری، 50 فیصد تک ڈسکاؤنٹ کا اعلان

 پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر یوٹیلٹی بلوں کی کیش فری ادائیگی نہ صرف صارفین کے لیے سہولت کا باعث بنے گی بلکہ بینکاری نظام پر دباؤ میں کمی، وقت کی بچت اور نقد لین دین میں کمی کے ذریعے معیشت کو مزید دستاویزی بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ نئی سہولت سے خاص طور پر ایسے صارفین کو فائدہ ہوگا جو روزمرہ خریداری اور ادائیگیوں کے لیے پہلے ہی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles