کراچی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ای ٹکٹنگ نظام کے تحت 40 ہزار گاڑیوں کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد ان کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاری کر لی گئی ہے۔
بلیک لسٹ قرار دی جانے والی گاڑیوں کے مالکان کو یکم جولائی تک کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی گاڑی کے تمام واجبات ادا کریں اور ریکارڈ درست کروا سکیں، بصورت دیگر انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں ڈی ایس پی ٹریکس ملہیر خان نے نامکمل ریکارڈ والی گاڑیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے متعلق تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریکس سسٹم، سیف سٹی کیمروں، جدید آٹومیشن اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی گاڑیوں کو ضبط کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو مختلف بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔
ملہیر خان کے مطابق چیکنگ کے دوران بلیک لسٹ گاڑیوں کی کئی اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم ان گاڑیوں کی ہے جو خرید و فروخت کے بعد نئے مالک کے نام منتقل نہیں کی گئیں۔ ایسی صورتحال میں اگر گاڑی کسی جرائم پیشہ عناصر یا ٹریفک خلاف ورزی میں استعمال ہو تو تمام قانونی مشکلات سابق مالک کو پیش آتی ہیں۔
دوسری قسم ان گاڑیوں کی ہے جن کے مالکان نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں اپنا مکمل اور درست پتہ درج نہیں کروایا۔ پولیس کے مطابق نامکمل پتے کی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والے افراد تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تیسری قسم ان گاڑیوں کی ہے جن پر ٹیکس، ای چالان اور دیگر سرکاری واجبات بقایا ہیں۔ ڈی ایس پی ٹریکس کے مطابق متعدد شہری دانستہ طور پر سسٹم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور واجبات کی ادائیگی نہیں کرتے۔
ملہیر خان نے انکشاف کیا کہ ایک اور خطرناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، جس میں بعض شہری دوسری گاڑیوں کی نمبر پلیٹس استعمال کر رہے ہیں۔ اس عمل کے باعث اصل مالک کو غلط ای چالان موصول ہوتے ہیں جبکہ یہ عمل مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی ٹریفک کی ہدایات پر فوری کریک ڈاؤن کے بجائے شہریوں کو سہولت دینے کے لیے ایک ماہ کا رعایتی وقت دیا گیا ہے۔
شہری سندھ پولیس کی ویب سائٹ پر موجود “ٹریکس” پورٹل پر جا کر اپنی گاڑی کا نمبر اور شناختی کارڈ نمبر درج کریں، جہاں انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان کی گاڑی کسی بلیک لسٹ کیٹیگری میں شامل ہے یا نہیں۔
ملہیر خان نے خبردار کیا کہ مقررہ مدت کے بعد خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں گاڑی تحویل میں لے کر تھانے یا کمپاؤنڈ منتقل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔