وزیر مملکت بیرسٹر عقیل نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کا براہ راست فائدہ عام شہریوں تک پہنچے گا اور اس سے ملک میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں بہتری اور خطے میں تعلقات کی بحالی سے معاشی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں وہی افراد کامیاب ہوتے ہیں جن کے پاس جدید دور کے مطابق ہنر موجود ہو اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ مختلف فنی مہارتیں حاصل کریں۔
بیرسٹر عقیل نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی پیش رفت خطے کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو توانائی کی عالمی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے جس سے گیس کی قلت جیسے مسائل میں بھی کمی واقع ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کئی بار بات چیت اور مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں اور اب حالات میں کسی حد تک بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات میں پیش رفت ایک تدریجی عمل ہے اور اس میں دونوں فریقین کا مثبت کردار ضروری ہوتا ہے۔
بیرسٹر عقیل نے زور دیا کہ سیاسی معاملات کو سیاسی دائرے میں ہی رہ کر حل کرنا چاہیے اور اداروں کے سربراہان کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ قومی استحکام برقرار رہ سکے۔ ان کے مطابق حکومت معیشت کو بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔