امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’ٹرمپ 2028‘ لکھی ٹوپی پہن کر وائرل ہونے والی تصویر نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم ان کی تیسری بار صدارت میں رکاوٹ ہے، تاہم اس علامتی اقدام نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا یہ محض سیاسی پینترا بازی ہے یا کسی خفیہ آئینی راستے کی تلاش۔
آئین بمقابلہ خواہش
امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کا بنیادی اصول واضح ہے کہ کوئی بھی فرد 2 بار سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ، جو ماضی میں بھی اپنے مختلف بیانات اور مذاقاً کیے گئے تبصروں میں تیسری مدت کا ذکر کرتے رہے ہیں، اب اس ٹوپی کے ذریعے ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہیں۔
حال ہی میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسے ایک ’سیاسی جوک‘ کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن ناقدین اسے اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے کی ایک منظم حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔
پروفیسر جیانگ کی متنازع پیش گوئی
اس بحث کو ایک نئی جہت چینی نژاد کینیڈین پروفیسر جیانگ شیوشن کی ایک پرانی پیش گوئی نے دی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح تیسری بار صدارت حاصل کر لیں گے۔
پروفیسر جیانگ نے ایک انٹرویو میں استدلال کیا تھا کہ آئین میں یہ تو درج ہے کہ کوئی شخص 2 بار سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا، لیکن یہ واضح نہیں کہ کیا ایک سابق صدر نائب صدر کا انتخاب لڑ سکتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق، اگر صدر بعد میں استعفیٰ دے دے تو نائب صدر خود بخود صدر کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔
قانونی ماہرین کا نقطہ نظر
قانونی ماہرین پروفیسر جیانگ کے اس نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی 12ویں ترمیم اس کی راہ میں سب سے بڑی قانونی دیوار ہے۔
اس ترمیم کے تحت، جو شخص صدر بننے کی اہلیت نہیں رکھتا، وہ نائب صدارت کا بھی اہل نہیں ہو سکتا۔ ماہرین کے مطابق، یہ راستہ نکالنا ناممکن ہے اور اسے ایک نظریاتی بحث کے سوا کچھ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کیا یہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تازہ ترین پوسٹ کو اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کے دلوں میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے ماہر ہیں۔
ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اس طرح کے بیانات اور علامتی اقدامات کے ذریعے ریپبلکن پارٹی میں اپنی گرفت مضبوط رکھتے ہیں اور اپنے مخالفین کو مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیسری مدت کے لیے صدارت کا حصول محض قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی بحران کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے خود تسلیم کیا کہ اگر ایسا کوئی راستہ نکالا بھی گیا تو اس کے نتیجے میں امریکا میں شدید داخلی کشیدگی اور سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
بظاہرٹرمپ کا یہ اقدام امریکی عوام اور میڈیا کے درمیان ایک ’سسپنس‘ قائم رکھنے کی کوشش ہے تاکہ وہ سیاسی مرکزِ نگاہ بنے رہیں۔